برطانیہ: اسلامی انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے نئے قوانین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون حالیہ عام انتخابات میں کامیابی کے بعد ''خطرناک اسلامی نظریے'' سے نمٹنے کے لیے نئے سخت قوانین متعارف کرا رہے ہیں۔

ان کی جماعت کنزرویٹو پارٹی کی حکومت اپنے قانون سازی کے مجوزہ پروگرام میں ''انتہا پسندی '' کو شکست دینے کے لیے ایک نیا قانون شامل کرے گی۔برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم 27 مئی کو پارلیمان کے اجلاس سے خطاب کے دوران قانون سازی کے اس پروگرام کا اعلان کریں گی۔

برطانیہ عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ (داعش) کے مشہور زمانہ قصاب ''جہادی جان'' کی شناخت کا پتا چلنے کے بعد سے اسلامی انتہا پسندی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملی پر غور کررہا ہے۔جہادی جان کی شناخت محمد اموازی کے نام سے ہوئی تھی اور وہ لندن کا رہنے والا تھا۔اس کے علاوہ بھی بہت سے برطانوی نوجوان جہاد کے لیے عراق اور شام میں موجود ہیں اور اس وقت داعش اور دوسرے اسلامی جنگجو گروپوں کی صفوں میں شامل ہو کر لڑرہے ہیں۔

برطانوی وزیراعظم کے دفتر کے مطابق ڈیوڈ کیمرون ملک میں انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے ماضی میں اختیار کردہ ناکام حکمت عملی کی جگہ نئے اقدامات کا اعلان کریں گے اور توقع ہے کہ وہ انھیں عملی جامہ بھی پہنانے میں کامیاب ہوجائیں گے کیونکہ ان کی سابقہ حکومت میں شامل اتحادی جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی ماضی میں ان سخت اقدامات کی مخالفت کرتی رہی ہے۔

مجوزہ قانون سازی کے تحت لوگوں کو کٹڑ بنانے کی ذمے دار''انتہا پسند تنظیموں'' پر پابندی عاید کردی جائے گی اور انتہا پسند خیال کیے جانے والے لوگوں کے برطانیہ میں داخلے پر قدغنیں عاید کردی جائیں گی۔

نئی قانون سازی کے تحت حکومت کو ایسے اختیارات حاصل ہوجائیں گے جن کے تحت وہ انتہا پسندوں کے دوسروں پر اثرانداز ہونے والی جگہوں کو بند کرسکے گی اور حکومت کو خیراتی اداروں کے خلاف ان کی جانب سے انتہا پسندوں اور انتہا پسند تنظیموں کو فنڈز مہیا کرنے پر بھی اختیارات حاصل ہوجائیں گے۔

برطانوی وزیر داخلہ تھریسا مے کا کہناہے کہ ''ہم ان گروپوں اور افراد کے خلاف قانون سازی متعارف کرائیں گے جو ہماری اقدار کو مسترد کرتے ہیں اور منافرت پر مبنی پیغامات کی تشہیر کرتے ہیں''۔

مختلف جماعتوں اور گروپوں پر مشتمل برطانوی مسلم کونسل نے قبل ازیں حکومت کی جانب سے انتہا پسندی کے نام پر مسلمانوں کے خلاف مجوزہ سخت اقدامات کی مخالفت کی تھی اور اس نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس سلسلے میں مسلم کمیونٹیوں سے مشاورت کرے۔اس کے سیکریٹری جنرل شجاع شافعی نے مارچ میں ایک بیان میں کہا تھا کہ متشدد انتہا پسندی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک نئی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں