.

روسی صدر کی جانب سے بشارالاسد کی حمایت کا اعادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی صدر ولادی میر پوتین نے ایک مرتبہ پھر اپنے ملک کی جانب سے شامی صدر بشارالاسد کی حمایت کا اعادہ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ شام میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے بیرونی مداخلت کے مخالف ہیں۔

انھوں نے جمعہ کو سینٹ پیٹرزبرگ میں بین الاقوامی اقتصادی فورم میں تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''شام میں جاری لڑائی میں شدت سے صورت حال خطرناک ہوسکتی ہے اور وہ لیبیا میں جاری تنازعے جیسی صورت اختیار کرسکتی ہے''۔

واضح رہے کہ روس شام میں گذشتہ چار سال سے جاری عوامی احتجاجی تحریک اور خانہ جنگی کے دوران شامی صدر بشارالاسد اور ان کی حکومت کی حمایت کرتا چلا آرہا ہے۔ولادی میر پوتین نے اپنی تقریر میں ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان بہت جلد حتمی معاہدہ طے پاجائے گا۔

روسی صدر نے ملکی اور غیرملکی سرمایہ کاروں سے مخاطب ہوکر کہا کہ ''یوکرین بحران پر مغرب کے ساتھ جاری کشیدگی کے باوجود ان کے ملک کے دنیا کے لیے دروازے کھلے ہیں اور وہ مغرب کے ساتھ تعاون کرے گا''۔روس اور مغربی ممالک کے درمیان گذشتہ ڈیڑھ ایک سال سے یوکرین بحران پر کشیدگی چلی آرہی ہے۔

ولادی میر پوتین نے اپنی تقریر میں یورپی یونین کے ساتھ یوکرین میں جاری بحران کے معاملے پر کشیدگی کو بالکل نظرانداز کرتے ہوئے کہا کہ ''میں اقتصادی ایشوز پر اپنی توجہ مرکوز کرنا چاہوں گا''۔پھر انھوں نے زیرلب مسکراتے ہوئے کہا کہ ''بہت سے لوگوں نے ایک گہرے بحران کی پیشین گوئی کی تھی ،مگر ایسا نہیں ہوا ہے''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''ہم نے صورت حال کو مستحکم بنا دیا ہے،ایک مستحکم بجٹ پیش کیا ہے اور ہمارے مالیاتی اور بنک کاری نظام نے نئی شرائط اختیار کی ہیں''۔روسی صدر نے اپنی اس تقریر میں کوئی بڑا پالیسی اعلان نہیں کیا ہے اور روس میں سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔