.

ایران پر جنوبی اور شمالی یمن میں جنگ چھیڑنے کی سازش کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی حکومت کے ایک باوثوق ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ ایران شمالی اور جنوبی یمن کے درمیان لڑائی چھیڑنے کی سازشیں تیار کررہا ہے۔ ان سازشوں کو کامیاب بنانے کے لیے سابق صدر علی ناصر اور حوثی ملیشیا کی قیادت سے ایران کے رابطے ہیں۔ ان رابطوں کے دوران علی ناصر اور حوثی ملیشیا کو تجویز دی گئی ہے کہ عدن شہر کو ایران نواز قوتوں کے حوالے کر دیں تاکہ جنوبی اور شمالی یمن کے درمیان جنگ کو طول دیا جاسکے۔

خیال رہے کہ اس وقت عدن میں حوثی ملیشیا اور منحرف سابق صدر علی صالح کے وفاداروں کو عوامی مزاحمتی کمیٹیوں کی جانب سے سخت مزاحمت کے بعد پسپائی کا سامنا ہے، جبکہ ایران عدن کو شمالی اور جنوبی یمن کے درمیان ایک نیا اکھاڑا بنانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

واضح رہے کہ جنوبی یمن کے بعض متحارب گروپوں کی مسلسل مخاصمت کے پس پردہ بھی ایران کا ہاتھ بتایا جاتا رہا ہے۔ ماضی میں سابق یمنی قبائلی لیڈر علی سالم البیض، سابق صدر علی ناصر محمد اور کئی دوسرے رہ نمائوں کے ایران کے ساتھ مسلسل رابطے رہے ہیں۔ ایران یمن کی وحدت اور استحکام کی مساعی کو ناکام بنانے کے لیے جنوبی یمن کی قیادت کو آپس میں لڑاتا رہا ہے۔

یمن کے سیاسی اور سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حال ہی میں مسقط میں امریکی نگرانی میں ہونے والے مذاکرات میں بھی اس امر پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی کہ ایران حوثیوں کو عدن شہر کا کنٹرول جنوبی یمن کی تہران نواز قوتوں کے سپرد کرنے پر زور دے رہا ہے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ ایران کی جانب سے حوثیوں کو عدن کا کنٹرول دوسرے ایران نواز گروپوں کے حوالے کرنے کا مقصد حوثیوں کی بغاوت سے توجہ ہٹانا بھی ہوسکتا ہے۔ ایران اس طرح یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ یمن میں جاری لڑائی شمالی اور جنوبی حصوں کی باہمی کشمکش ہے اور حوثیوں اور علی صالح کو بلا جواز انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس سازش کے تحت ایران یمن کے دونوں حصوں میں ایک طویل جنگ چھیڑںے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں ایران اور سابق جنوبی یمنی صدر علی ناصر محمد کے درمیان تواتر کے ساتھ رابطے رہے ہیں۔ ان رابطوں میں عدن کا کنٹرول علی ناصر جیسے لیڈروں کے حوالے کرنے کی تجویز پیش کی گئی اور اس پر غور کیا گیا۔ عدن کا کنٹرول علی ناصر محمد اور دوسرے ایران نواز گروپوں کے حوالے کرنے کے لیے ایک مشترکہ کونسل کی تشکیل کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنوبی یمن کی مقامی ایران نواز قیادت اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے "القاعدہ" کے قبضے کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر استعمال کررہی ہے۔ جنوبی یمن کی مذکورہ قیادت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پہاڑوں میں چھپے القاعدہ عناصر عدم استحکام کی صورت میں عدن پر قبضہ کرسکتے ہیں۔

یمن کے بحران کے حل کے لیے عالمی سطح پر ہونے والی مساعی میں جنیوا مذاکرات تازہ پیش رفت رہے جن میں عالمی برادری نے یمنی حوثی باغیوں اور آئینی حکومت پر مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل پر زور دیا تاہم کہا جا رہاہے کہ جنیوا مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار ایران ہے کیونکہ ایرانی مداخلت کی وجہ سے حوثی ملیشیا اور علی صالح کےنمائندہ وفود نے جنیوا مذاکرات میں پیش کی گئی تجاویز مسترد کردی تھیں۔

جنیوا مذاکرات میں جنوبی یمن سے غالب مطلق اورسوشلسٹ پارٹی کے سیکرٹری جنرل عبدالرحمان السقاف نے شرکت کی۔ اگرچہ انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ علی صالح یا حوثیوں کے نمائندہ نہیں بلکہ جنوبی یمن کے عوام کی نمائندگی کررہے ہیں۔ ان کا مقصد جنوبی یمن کے مسائل کو اجاگر کرنا ہے۔ ان کے اس انداز بیان سے ظاہرہوتا ہے کہ ان کے پشت پر ایران کا ہاتھ ہے جو یمن کو دوسرا شام بنانا چاہتا ہے۔