سنکیانگ میں 'شدت پسندوں' کی کارروائی، 18 ہلاک
چین کے مغربی صوبے میں یغور اور ہان برادری کے درمیان کشیدگی برقرار
چین کے ریڈیو 'ریڈیو فری ایشیا' کے مطابق چین کے مغربی علاقے سنکیانگ میں ایک ٹریفک چیک پوائنٹ پر یغور نسل سے تعلق رکھنے والے مسلح افراد کے حملے کے بعد کم ازکم 18 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
یہ واقعہ سنکیانگ کے جنوبی شہر کاشغر میں پیش آیا جہاں مسلم یغور اور علاقے میں اکثریت رکھنے والے ہان باشندوں کے درمیان حالیہ سالوں میں کشیدگی شدت اختیار کرگئی ہے جس کے نتیجے میں خونی فسادات بھی ہوئے تھے۔
ایک مقامی پولیس افسر کے مطابق مشتبہ افراد نے خنجروں اور بموں کی مدد سے متعدد پولیس افسروں کو قتل کردیا جس کے بعد وہ موقع سے فرار ہوگئے۔ چینی پولیس نے ملزمان کا پیچھا کیا اور 15 افراد کو قتل کردیا۔
یہ حملہ اسلامی مہینے رمضان کے شروع میں کیا گیا ہے جو کہ سنکیانگ میں ایک حساس وقت سمجھا جاتا ہے۔ پچھلے تین سال کے دوران سنکیانگ کے علاقے میں کئی حملے ہوچکے ہیں جن میں سینکڑوں افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں۔ بیجنگ ان حملوں کا الزام اسلام پسند جنگجوئوں کے سر ڈالتا ہے۔
-
چین : سنکیانگ میں دھماکے، 40 مظاہرین ہلاک
چین کے شورش زدہ مغربی صوبے سنکیانگ میں پے در پے بم دھماکوں میں کم سے کم چالیس ...
بين الاقوامى -
چینی صوبے سنکیانگ میں روزہ رکھنے پر پابندی
چین کے صوبے سنکیانگ میں سرکاری محکموں کے مسلمان ملازمین، طلبہ اور اساتذہ کو بدھ کے ...
بين الاقوامى -
دہشت گردی کا واقعہ نسل پرستی کا نتیجہ نہیں تھا:چینی حکام
چاقووں سے حملے کے واقعے کے ذمہ دار صوبہ سنکیانگ کے علاحدگی پسند تھے
بين الاقوامى