.

ہم حالتِ جنگ میں ہیں: کویتی وزیر داخلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی ریاست کویت کے وزیر داخلہ الشیخ محمد خالد الحمد الصباح نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے پچھلے جمعہ کو کویت سٹی میں اہل تشیع کی مسجد میں خود کش دھماکے میں مبینہ طور پر ملوث ایک دہشت گرد گروپ کو پکڑا ہے جبکہ واقعے میں ملوث دوسرے عناصر کا تعاقب جاری ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق وزیر داخلہ نے ان خیالات کا اظہار "مجلس الامہ" [ پارلیمنٹ] کے اجلاس سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم حالت جنگ میں ہیں۔ سیکیورٹی حکام نے جس گروپ کو پکڑا ہے وہ کویت سٹی میں مسجد امام جعفر الصادق میں دھماکے میں ملوث ہے لیکن دہشت گردی کی اس خطرناک واردات میں کچھ اور دہشت گرد بھی ہیں جو مفرور ہیں اور انہیں ڈھونڈنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ہم ان کا پیچھا کریں گے اور انہیں پکڑ کر قانون کے مطابق انہیں سزا دینے تک اپنا مشن جاری رکھیں گے۔

وزیرداخلہ نے ایوان کو بتایا کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مساجد اور عبادت گاہوں کی سیکیورٹی کے امور پر نظرثانی کی ہے اور دہشت گردوں کو مساجد میں دھماکے کرنے سے روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ پچھلے جمعہ کو نماز جمعہ کے دوران ایک خود کش بمبار نے دارالحکومت کویت میں اہل تشیع کی ایک بڑی جامع مسجد میں گھس کر خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا جس کے نتیجے میں 26 نمازی جاں بحق اور 227 زخمی ہوگئے تھے۔

دھماکے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تلاشی کی کارروائیوں میں متعدد افراد کو حراست میں لیا ہے۔ ان میں سے پانچ مشتبہ دہشت گردوں، خودکش بمبار کو مسجد تک پہنچانے والے ڈرائیور اور کار کے مالک کو عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔

کویت کے وزیر قانون وانصاف یعقوب الصانع نے ایوان کو بتایا کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے مسجد میں دھماکے کے واقعے کی تحقیقات کے لیے خصوصی ٹریبونل تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مساجد میں دہشت گردی کے مرتکب عناصر کو جلد از جلد قانون کے مطابق سزا دلوانے کی کوشش کررہے ہیں۔