ایران نے جوہری مذاکرات میں دنیا کو لبھا لیا: حسن روحانی
جوہری مذاکرات ناکام ہوجاتے ہیں ،پھر بھی ہم نے فنِ سفارت کاری کا لوہا منوا لیا
ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ اگر ان کے ملک کا چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدہ طے پاجاتا ہے تو اس سے وہ دنیا پر یہ ثابت کردے گا کہ وہ ایک بڑے سیاسی مسئلے کو مذاکرات اور منطقی دلائل کے ذریعے طے کرسکتا ہے۔
ایران کی خبررساں ایجنسی نسیم کے مطابق صدر حسن روحانی نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''اگر جوہری مذاکرات ناکام ہوجاتے ہیں ،تو پھر بھی ہماری سفارت کاری نے دنیا کو بتا دیا ہے کہ ہم منطقی ہیں۔ہم نے کبھی مذاکرات کی میز کو نہیں چھوڑا اور ہمیشہ بہتر جواب فراہم کیا ہے''۔
انھوں نے کہا کہ ''بائیس ماہ تک جاری رہنے والے مذاکرات کا یہ مطلب ہے کہ ہم دنیا کو لبھانے میں کامیاب رہے ہیں اور یہ ایک فن ہے''۔
آسٹریا کے شہر ویانا میں ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان مذاکرات اب تیسرے ہفتے میں داخل ہوچکے ہیں۔ طرفین نے جوہری تنازعے پر حتمی معاہدے کے لیے پہلے 30 جون کی ڈیڈلائن مقررکی تھی۔پھر اس میں سات جولائی تک توسیع کی تھی۔اب تیسری مرتبہ اس میں سوموار تیرہ جولائی تک توسیع کی گئی ہے۔اس دوران ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے امریکا پر اپنے مطالبات تبدیل کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔
درایں اثناء فرانسیسی وزیرخارجہ لوراں فابیئس نے ہفتے کے روز ایران اور امریکا پر زوردیا ہے کہ وہ مذاکرات کے عمل کو تیز کریں۔ان کا کہنا ہے کہ اس وقت ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان تمام ایشوز مذاکرات کی میز پر ہیں اور اب فیصلہ کرنے کا وقت آگیا ہے۔
طرفین کے درمیان گذشتہ ہفتے مذاکرات کے دوران سب سے بڑا ایشو ایران کا یہ اصرار رہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس پر عاید اسلحے کی پابندیاں ختم کرے۔اس کے علاوہ 2006ء سے نافذ العمل ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر عاید پابندیاں بھی معاہدہ طے پانے کی صورت میں فوری طور پر ختم کی جائیں۔
روس ایران کے اس مطالبے کی حمایت کررہا ہے کہ اس معاہدے کے حصے کے طور پر ایران پر عاید اسلحے کی متنازعہ پابندی جزوی طور پر ختم کی جانی چاہیے جبکہ امریکا اس کی مخالفت کررہا ہے۔تاہم مغربی ممالک ان پابندیوں کے فوری خاتمے کے حق میں نہیں ہیں۔
ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے کی راہ میں حائل دوسرا بڑا مسئلہ فوجی تنصیبات کا معائنہ اور جوہری سائنسدانوں تک رسائی ہے۔امریکا اور اس کے مغربی اتحادی جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کے ذریعے ایران کے جوہری پروگرام سے وابستہ سائنسدانوں ،جوہری تنصیبات اور دستاویز تک رسائی کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن ایران عالمی معائنہ کاروں کو ایسی کوئی رسائی دینے کو تیار نہیں ہے۔
بعض سفارت کاروں کے بہ قول مذاکرات میں شریک ایرانی وفد اس موقف میں لچک پیدا کرنے کو تیار ہے مگر ایران کے سخت گیر جوہری تنصیبات کے بلا روک ٹوک معائنے کی مخالفت کررہے ہیں۔ایرانی فوج کے ترجمان جنرل مسعود جزائری نے اگلے روز فارس نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ '' فوجی تنصیبات تک کسی بھی صورت میں رسائی نہیں دی جائے گی''۔