تیونس :القاعدہ کے اتحادی سینیر کمانڈر کی ہلاکت کی تصدیق
تیونسی حکام نے القاعدہ سے وابستہ ایک جنگجو گروپ کے سینیر کمانڈر کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔وہ پانچ اور جنگجوؤں کے ساتھ گذشتہ جمعہ کے روز تیونسی سکیورٹی فورسز کی ایک کارروائی میں مارا گیا تھا۔
تیونسی صدر کے ترجمان معزالسيناوی نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ ''ڈی این اے ٹیسٹ سے مراد الغرسلی کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی ہے''۔ تیونس کی سکیورٹی فورسز نے جمعہ کے روز ملک کے وسطی علاقے قفصہ میں پانچ مشتبہ جنگجوؤں کوانٹیلی جنس اطلاع کی بنیاد پر کڑی نگرانی کے بعد ہلاک کردیا تھا۔
بتیس سالہ مرادالغرسلی تیونس کا شہری تھا اور وہ القاعدہ سے وابستہ عقبہ بن نافع بریگیڈز کا لیڈر تھا۔تیونسی حکام نے اس گروپ پر گذشتہ تین سال کے دوران دہشت گردی کے متعدد حملوں کے الزامات عاید کیے تھے۔اسی گروپ پر مارچ میں دارالحکومت تیونس کے مشہور باردو میوزیم پر حملے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔اس حملے میں اکیس غیرملکی سیاح ہلاک ہوگئے تھے۔دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) نے اس حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔
تیونس کی سکیورٹی فورسز نے گذشتہ ماہ مشہور سیاحتی مقام سوسہ میں سمندر کنارے واقع ہوٹل مرحبا کے احاطے میں مسلح شخص کی فائرنگ سے اڑتیس سیاحوں کی ہلاکت کے بعد مشتبہ جنگجوؤں کے خلاف کارروائیاں تیز کردی ہیں اور اس واقعے میں ملوّث ہونے کے شبے میں اب تک کم سے کم ایک سو تیس افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔