.

افغانستان: امریکی ڈرون حملے میں پانچ جنگجو مارے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میں امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کے میزائل حملے میں پانچ مشتبہ جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ڈرون نے پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے خیبرایجنسی کی وادی شلمان سے متصل ننگرہار کے ضلع لال پور میں ایک گاڑی پر دو میزائل فائر کیے ہیں۔فوری طور پر اس میزائل حملے میں ہلاک ہونے والے جنگجوؤں کی شناخت معلوم نہیں ہوسکی ہے۔

امریکا نے پاکستان کی سرحد کے ساتھ ملحقہ افغان علاقوں میں مشتبہ جنگجوؤں کے خلاف میزائل حملے تیز کردیے ہیں اور اسی ماہ کے دوران امریکی ڈرون حملوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سابق ترجمان شاہد اللہ شاہد سمیت پانچ جنگجو مارے گئے تھے۔ شاہد اللہ شاہد اور دوسرے جنگجوؤں نے ٹی ٹی پی کو خیرباد کہہ کر داعش کے خلیفہ ابوبکر البغدادی کی بیعت کرلی تھی۔

خیبر ایجنسی پاکستان کے سات خودمختار قبائلی علاقوں میں سے ایک ہے اور افغان سرحد کے ساتھ واقع اس علاقے میں القاعدہ سمیت مختلف انتہا پسند جنگجو تنظیمیں موجود ہیں۔پاکستانی فورسز نے خیبر اوّل اور خیبر دوم کے نام سے اس علاقے میں گذشتہ مہینوں کے دوران جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کی ہے اور خیبر ایجنسی کے علاقے وادی تیراہ کو قریب قریب جنگجوؤں سے پاک کردیا ہے۔

ان کارروائیوں کے ساتھ پاک فوج نے شورش زدہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں بھی جنگجوؤں کے خلاف گذشتہ ایک سال کے دوران آپریشن ضربِ عضب کے نام سے ایک بڑی کارروائی کی ہے جس کے دوران قریباً تین ہزار جنگجوؤں کو ہلاک کردیا گیا ہے اور شمالی وزیرستان کے قریباً نوّے فی صد علاقے کو کلئیر کر لیا گیا ہے۔