ترکی: کرد باغیوں کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار ہلاک
ترکی میں کرد باغیوں نے سکیورٹی فورسز کے خلاف حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور انھوں نے ملک کے جنوبی علاقے میں پولیس کی ایک گاڑی پر فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا ہے۔
ترکی کے جنوبی صوبہ مردین کے گورنر کے دفتر کے مطابق کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے) کے جنگجوؤں نے ہفتے کی رات گشت پر مامور پولیس اہلکاروں کی ایک گاڑی پر فائرنگ کی تھی۔
جنوب مشرقی صوبہ موس میں بھی کرد جنگجوؤں نے ایک فوجی چوکی پر راکٹ داغے ہیں لیکن اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔
ترکی نے گذشتہ ماہ شام کی سرحد کے نزدیک واقع قصبے سوروچ میں خودکش بم دھماکے کے بعد کرد باغیوں اور شام میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف فضائی حملے شروع کررکھے ہیں۔ان فضائی حملوں کے ردعمل میں علاحدگی پسند کرد جنگجوؤں نے بھی ترک سکیورٹی فورسز پر گذشتہ دو ہفتوں سے حملے تیز کردیے ہیں۔
درایں اثناء ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولیہ کی رپورٹ کے مطابق شمالی عراق اور ملک کے جنوب مشرقی علاقوں میں ترک فوج کے کرد جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں کم سے کم چار سو جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔
اناطولیہ کی اس رپورٹ کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں۔البتہ یہ خبررساں ایجنسی ترکی کے سکیورٹی اور انٹیلی جنس حکام کے فراہم کردہ اعداد وشمار پر انحصار کرتی ہے اور اس نے اپنی رپورٹ میں مزید بتایا ہے کہ فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں پی کے کے کے چار لیڈر اور تیس جنگجو خواتین بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ علاحدگی پسند کرد جماعت پی کے کے اور انقرہ حکومت کے درمیان سنہ 2012ء کے آخر میں امن سمجھوتے پر اتفاق ہوا تھا جس کے تحت کرد باغیوں نے سکیورٹی فورسز پر حملے روک دیے تھے اور ان کے خلاف بھی ترک فوج نے مہم بند کردی تھی لیکن اس کے بعد ترک حکومت اور کردوں کے درمیان امن مذاکرات میں گذشتہ تین عشروں سے جاری اس تنازعے کے خاتمے کے لیے کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔