.

بشارالاسد کی شام کے مستقبل میں کوئی جگہ نہیں:عادل الجبیر

شامی بحران سے متعلق سعودی عرب کے مؤقف میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ شامی تنازعے سے متعلق ان کے ملک کے مؤقف میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے۔سعودی عرب کا یہ واضح مؤقف ہے کہ شام کے مستقبل میں صدر بشارالاسد کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

وہ منگل کے روز ماسکو میں روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے۔عادل الجبیر نے کہا کہ ''بشارالاسد کو جانا ہوگا اور ان کی اقتدار سے رخصتی کے بعد شامی فوج کو داعش کے خلاف جنگ کے لیے برقرار رکھا جانا چاہیے''۔

تاہم ان کے روسی ہم منصب نے ان کے اس مؤقف سے اتفاق نہیں کیا۔انھوں نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ ''امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے شام میں داعش کے خلاف فضائی حملے اپنے اہداف کو حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔اگر بشارالاسد کی حکومت کا تختہ الٹ دیا جاتا ہے تو اس سے داعش کے لیے پورے ملک پر قبضے کی راہ ہموار ہوجائے گی''۔

لاروف نے کہا کہ روس کا سعودی عرب سے بشارالاسد کے مستقبل کے معاملے پر تو اختلاف برقرار ہے لیکن ان کے درمیان شامی بحران کے حل کے لیے جنیوا اوّل سمجھوتے میں کوئی عدم اتفاق نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ''داعش کے خلاف جنگ کے لیے مربوط بین الاقوامی کوششوں کے حوالے سے ابتدائی تفصیل سامنے آنا شروع ہوگئی ہے۔سعودی عرب اور روس نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ عالمی کھلاڑیوں کو شام اور عراق کے ایک بڑے حصے پر قابض جنگجوؤں کے خلاف جنگ میں شریک ہونا چاہیے''۔