.

استنبول میں محل پرحملہ ،جنوب مشرق میں بم دھماکا،8 فوجی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے سب سے بڑے شہراستنبول میں مسلح افراد نے ایک محل پر فائرنگ کی ہے اور ملک کے جنوب مشرقی علاقے میں ایک بم حملے میں آٹھ فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔

استنبول کے گورنر کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ دولمه باهتچہ محل پر حملے کے بعد ایک دہشت گرد گروپ سے تعلق رکھنے والے دو مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ان دونوں سے دستی بم اور ایک خودکار رائفل برآمد ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ اسی محل میں استنبول میں ترک وزیراعظم کے دفاتر قائم ہیں۔حملے میں کوئی شخص ہلاک ہوا ہے اور نہ کسی گروپ نے فوری طور پر اس کی ذمے داری قبول کی ہے۔ماضی میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے جنگجو دولمه باهتچہ محل کو اپنے حملے میں نشانہ بنا چکے ہیں۔

درایں اثناء کالعدم علاحدگی پسند گروپ کردستان ورکز پارٹی ( پی کے کے) سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے جنوب مشرقی صوبے سیرت میں ایک بم حملے میں آٹھ فوجیوں کو ہلاک کردیا ہے۔بم ایک شاہراہ پر نصب کیا گیا تھا۔

ترکی میں مشتبہ جنگجوؤں کے ان حملوں سے صرف ایک روز قبل وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے مخلوط حکومت کے قیام کے لیے اپنی کوششیں ترک کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد ملک میں قبل ازوقت نئے انتخابات کے انعقاد کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

احمد داؤد اوغلو نے بدھ کو ٹیلی ویژن سے نشر کی گئی تقریر میں کہا ہے کہ ''حکومت کی تشکیل میں ناکامی کے بعد اب ہمیں عوام کی منشاء کے مطابق کوئی حل تلاش کرنا ہوگا۔ہم تیزی سے نئے انتخابات کی جانب بڑھ رہے ہیں''۔استنبول میں محل پر حملے کے وقت احمد داؤد اوغلو دارالحکومت انقرہ میں تھے اور انھیں دوران تقریر ہی حملے کی اطلاع ملی تھی لیکن انھوں نے اپنی تقریر روکی نہیں ہے۔

نیٹو کے اتحادی ملک ترکی میں تشدد کے واقعات میں اضافے کے بعد سکیورٹی کی صورت حال روز بروز ابتر ہوتی جارہی ہے۔ترکی نے گذشتہ ماہ جنوب مشرقی علاقوں میں کرد جنگجوؤں اور داعش کے سکیورٹی فورسز پر حملوں کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا تھا۔

اس کے لڑاکا طیارے شمالی عراق اور ملک کے اندر کرد جنگجوؤں کے ٹھکانوں اور شمالی شام میں داعش کے جنگجوؤں پر فضائی حملے کررہے ہیں اور ترکی نے امریکا کو داعش کے خلاف جنگ میں اپنے ہوائی اڈے استعمال کرنے کی بھی اجازت دے دی ہے۔ترک سکیورٹی فورسز نے مشتبہ جنگجوؤں کے خلاف کریک ڈاؤن بھی جاری رکھا ہوا ہے اور گذشتہ ایک ماہ کے دوران ڈھائی ہزار کے لگ بھگ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔