داعش کے اسلحے میں کیمیائی ایجنٹوں کی موجودگی کا سراغ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی فوج کے تحقیقات کاروں کو سخت گیر جنگجو گروپ داعش کی جانب سے فائر کیے گئے مارٹروں میں کیمیائی مواد کے اجزا کی موجودگی کا سراغ ملا ہے۔امریکی تحقیقات کاروں نے ان مارٹروں کا فیلڈ ٹیسٹ کیا ہے۔

داعش مخالف کارروائیوں کے انچارج امریکی میرین کور کے بریگیڈئیر جنرل کیون کیلیا نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ فیلڈ ٹیسٹ کیمیائی ہتھیاروں کے اتسعمال کا کوئی حتمی ثبوت نہیں ہے اور مارٹروں کے اجزاء کے مزید ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی حتمی نتیجے تک پہنچا جا سکے۔

امریکا نے گذشتہ ہفتے شمالی عراق میں داعش کے جنگجوؤں کی جانب سے کرد فورسز کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔ایک امریکی عہدے دار نے گذشتہ جمعرات کو ایک بیان میں داعش کی جانب سے کرد جنگجوؤں کے خلاف مسٹرڈ گیس کے استعمال سے متعلق رپورٹس کو قابل اعتباد قرار دیا تھا۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل میں شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق انتہا پسند گروپ نے ممنوعہ کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔

جرمن وزارت دفاع نے گذشتہ جمعرات کو سب سے پہلے یہ دعویٰ کیا تھا کہ عراق کے شمالی علاقے میں داعش کے خلاف جنگ آزما کرد فورسز پر چند روز قبل کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا تھا جبکہ جرمنی کی وزارت خارجہ نے اس حملے کی تصدیق سے انکار کیا تھا۔

جرمن وزارت خارجہ کے ترجمان نے العربیہ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ شمالی عراق میں داعش کے خلاف نبرد آزما کرد فورسز پر کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کی تصدیق نہیں کرسکتے۔تاہم وزارت نے کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے امکان کو مسترد نہیں کیا تھا۔

عراق کے خود مختار شمالی علاقے کردستان کے دارالحکومت اربیل کے جنوب مغرب میں پینتیس کلومیٹر دور واقع علاقے مخمور میں 11 اگست کو کرد فوجیوں پر کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا تھا۔کرد فورسز البیش المرکہ کے ایک کمانڈر محمد خوشاوی کے بہ قول ان کے ٹھکانوں پر پینتالیس مارٹر گولے فائر کیے گئے تھے۔ان مارٹروں میں کیمیائی مواد تھا کیونکہ ان سے ہونے والے زخم مختلف تھے۔کرد حکام کے بہ قول ان مارٹروں میں کلورین گیس تھی لیکن انھوں نے مسٹرڈ گیس کا ذکر نہیں کیا تھا۔

واضح رہے کہ داعش پر ماضی میں بھی عراق میں کرد فورسز کے خلاف زہریلی گیس استعمال کرنے کے الزامات عاید کیے جاچکے ہیں۔کردستان کی خود مختار حکومت نے مارچ میں ایک بیان میں کہا تھا کہ اس کو جہادی گروپ کی جانب سے 23 جنوری کو ایک کار پر بم حملے میں کلورین گیس استعمال کرنے کے شواہد ملے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں