.

'امریکی صحافیوں کا قاتل 11 ستمبر کے حملوں سے متاثر تھا'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ریاست #ورجینیا کے حکام کا کہنا ہے کہ لائیو ٹی وی پر دو صحافیوں کو قتل کرنے والے مسلح شخص نے انتہائی محتاط منصوبہ بندی کے تحت حملہ کیا تھا اور حملہ آور کو بڑے پیمانے پر قتل کرنے والے قاتلوں اور 11 ستمبر 2001ء کو ہونیوالے حملوں کی منصوبہ بندی سے متاثر تھا۔

مقامی فرینکلن کائونٹی کی پولیس کے مطابق قاتل ویسٹر فلینیگن نے صحافیوں کو گولی مارنے کے بعد اپنی اگلی منزل یا اگلے قدم کا کوئی سراغ نہیں چھوڑا تھا۔

پولیس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ "تمام حقائق سے ثابت ہوتا ہے کہ بدھ کی صبح ہونیوالا حملہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تھا اور اس حملے کا واحد کردار صرف فلینیگن ہی تھا۔"

ٹی وی سٹیشن کے سابق ملازم فلینیگن نے ٹی وی رپورٹر الیسن پارکر اور کیمرہ مین ایڈم وارڈکو ایک لائیو انٹرویو کے دوران '40 کیلیبر کی گلاک' پسٹل سے 17 گولیاں مار کر ہلاک کردیا تھا۔

فلینیگن نے شمالی ورجینیا میں پولیس کی جانب تعاقب کے بعد اپنے آپ کو گولی مار کر خودکشی کرلی تھی۔ اس کے علاوہ انٹرویو دینے والی خاتون بھی گولی لگںے سے زخمی ہوگئی تھی اور اب وہ ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

بیان کے مطابق شواہد اور دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے کہ فلینیگن گھریلو تشدد اور اجتماعی قتل کرنے والے افراد اور 11 ستمبر 2001ء میں ہونیوالے حملوں سے بہت اچھی طرح واقفیت رکھتا تھا۔" 11 ستمبر کو ہونیوالے حملوں میں تقریبا 3000 افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے تھے۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ فلینیگن کی جانب سے کرائے پر لی جانیوالی گاڑی میں سے دو گلاک پسٹل برآمد ہوئے ہیں۔ ٹی وی پر براہ راست دکھائی جانیوالی اس قتل کی واردات کے بعد #امریکا میں بندوقوں پر قدغن لگانے کے مطالبات مزید شدت سے سامنے آنے لگے ہیں۔

حملے کے دن امریکی نشریاتی ادارے 'اے بی سی نیوز' کو بھیجے جانیوالے ایک فیکس میں افریقی نژاد فلینیگن نے اپنے آپ کو نسلی تعصب کے جواب میں بارود قرار دیا تھا۔ فلینیگن کو 2013ء میں ٹی وی چینل کی نوکری سے نکال دیا گیا تھا۔