.

چین کا مسلح افواج کی تعداد میں تین لاکھ کمی کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چین کے صدر شی جین پنگ نے ملک کی مسلح افواج کی تعداد میں تین لاکھ کی کمی کا اعلان کیا ہے۔انھوں نے یہ اعلان بیجنگ میں دوسری عالمی جنگ میں جاپان کی شکست کے ستر سال پورے ہونے کے موقع پر منعقدہ پریڈ سے خطاب میں کیا ہے۔

بیجنگ کے وسط میں واقع تیانمن اسکوائر میں منعقدہ تقریب میں انھوں نے کہا کہ''چین کے کوئی توسیع پسندانہ عزائم نہیں ہیں۔جنگ کے تجربے نے لوگوں میں امن کی قدرواہمیت اور بڑھا دی ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''چین اپنی بے پایاں ترقی کے باوجود بالادستی نہیں چاہتا ہے اور نہ اس نے اس کی کبھی خواہش کی ہے۔چین توسیع پسندی بھی نہیں چاہتا ہے اور وہ ماضی میں خود جھیلے گئے المیوں کو دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش بھی نہیں کرے گا''۔

اس سالانہ پریڈ میں چین کی مسلح افواج نے اپنی دفاعی صلاحیت ومہارت کا مظاہرہ کیا ہے۔اس موقع پر چین کی اعلیٰ قیادت اور روسی صدر ولادی میر پوتین ،جنوبی کوریا کے صدر پارک گیون ہائی اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون سمیت غیرملکی شخصیات بھی موجود تھیں۔

صدر شی کا کہنا تھا کہ ''تیئیس لاکھ فوجیوں پر مشتمل پیپلز لبریشن آرمی کی تعداد میں تین لاکھ کی کمی کی جائے گی اور اس کو بیس لاکھ کے لگ بھگ کیا جائے گا''۔تاہم تعداد میں اس کمی کے باوجود چینی فوج بدستور دنیا کی سب سے بڑی فوج رہے گی۔واضح رہے کہ ٹیکنالوجی کے میدان میں نت روز ترقی کی بدولت چین ایسے ممالک کو اتنی بڑی فوج رکھنے کی ضرورت نہیں رہی ہے اور فوجیوں کی تعداد میں کمی کے باوجود اس کی صلاحیت پر کچھ فرق نہیں پڑے گا۔