سمندری لہروں کی نذر ہونے والے شامی بچے کے والد کے تاثرات

'اسمگلرپناہ گزینوں کوبے یارو مدد گارچھوڑ کر فرار ہوگیا تھا'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

حال ہی میں ترکی کے ساحل سے ملنے والی شامی بچے کی لاش کا دل دہلا دینے والا منظر اور عالمی میڈیا میں تہلکہ خیزی کی حد تک مشہور ہونے والی اس کی تصویر کے بعد سمندر کی لہروں کی نذر ہونے والے شامی بچے کے والد کا ایک انٹرویو بھی سامنے آیا ہے جس نے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ پیش آئی اس مصیبت کا احوال بیان کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق غرق آب ہونے والے بچے ایلان کردی کے والد کا کہنا ہے کہ انہیں ایک ترک اسمگلر کئی دوسرے پناہ گزینوں کے ہمراہ سمندر میں چھوڑ کر فرار ہوگیا تھا جس کے بعد کشتی الٹ گئی۔ حادثے میں اس کی بیوی اور دو بچے بھی لقمہ اجل بن گئے۔ پانی کی بے رحم لہروں نے ایک بچے کی میت اٹھا کر کنارے پر پھینک دی جہاں اسے اوندھے منہ پڑے دیکھا گیا اور شامی پناہ گزینوں اور ان کی مشکلات کی منہ بولتی اس تصویر کو دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر زیربحث لایا گیا ہے۔

سمندر کے کنارے سے ملنے والے شامی بچے ایلان کردی کے والد عبداللہ کردی نے "روزنہ" ریڈیو کی نامہ نگار کو دیے گئے انٹرویو میں اپنے ساتھ پیش آئے واقعے کی مکمل تفصیلات بیان کی ہیں۔ عبداللہ کردی نے بتایا کہ ان کا تعلق شام میں ترکی کی سرحد سے متصل کرد اکثریتی علاقے "کوبانی"[عین العرب] سے ہے۔ کچھ عرصہ قبل وہاں پردولت اسلامی "داعش" اور کرد جنگجوئوں کے درمیان جنگ شروع ہوئی تو وہ اپنی فیملی کو لے کر ترکی آگئے تھے۔ جہاں وہ ایک نوسرباز انسانی اسمگلر کے ہاتھ لگے، جس نے انہیں دسیوں دوسرے شامی باشندوں کو یورپ لے جانے کا جھانسہ دیا اور عین کھلے سمندر میں خود تو کشتی سے چھلانگ لگا کر فرار ہوگیا اور انہیں بے یارو مدد گار چھوڑ دیا۔

عبداللہ نے بتایا کہ جب کشی ڈولنے لگی تومیری بیوی اور دوبچوں نے اسے پکڑے رکھا مگرایک گھنٹے کے بعد کشی الٹ گئی اور ہم سب پانی میں ڈوب گئے۔ میں نے اپنی بیوی بچوں کو بچانے کی سرتوڑ کوشش کی مگر میں ان تینوں میں سے کسی کو بچا نہیں پایا۔

شام میں آبائی پیشے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں عبداللہ کردی نے بتایا کہ وہ دمشق میں رُکن الدین کالونی میں حجام کا کام کرتا تھا۔ شام میں امن وامان کے حالات خراب ہونے کے بعد وہ بھی سیکڑوں دوسرے خاندانوں کے ہمراہ ترکی آگیا۔ ترکی کی جانب نقل مکانی کے وقت اس کے ایک بیٹے ایلان کی عمر دو سال اور اس سے بڑے بیٹے غالب کی عمر چار سال تھی جب کہ ان کی والدہ ریحانہ امید سے بھی تھی۔ میں جلدازجلد اپنے چھوٹے سے خاندان کو کسی محفوظ مقام کی طرف لے جانا چاہتا تھا مگر میرے پاس کسی دوسرے ملک کی طرف سفر کے لیے وسائل نہیں تھے۔

نم ناک آنکھوں سے بات کرتے ہوئے عبداللہ کردی نے اپنے ساتھ آئے سانحے کے حوالے سے مزید بتایا کہ ترکی آنے کے بعد مجھے حجام کا کام تو نہ ملا مگر میں نے بچوں اور اپنا پیٹ پالنے کے لیے یومیہ پچاس ترک لیرہ کے بدلے دیہاڑی پر مزدوری شروع کردی۔ یہ رقم ہمارے لیے کافی نہیں تھی۔ اس دوران میرے والد اور ایک ہمیشرہ نے بھی ہماری کچھ مالی مدد کی اور ہم یورپ میں پناہ کی تلاش کی منصوبہ بندی کرنے لگے۔ میں نے متعدد مرتبہ اپنے بچوں کے ہمراہ یونان کے سفر کی تیاری کی مگر مختلف وجوہات کی بناء پر ہم سفر شروع نہ کر پائے۔ آخرکار ہمیں ایک ترک نژاد انسانی اسمگلر سے پالا پڑا جس نے میرے پورے خاندان کو موت کے منہ میں دھکیل دیا۔ ایک ترک اور ایک شامی اسمگلر نے ہمارے پورے خاندان کو یورپ پہنچانے کے چار ہزار یورو طلب کیے مگر میں نے انہیں بتا دیا کہ میرے پاس اتنی بھاری رقم نہیں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں اپنے بیوی بچوں کو کھو دینے والے بدنصیب عبداللہ کردی نے بتایا کہ انسانی اسمگلروں نے ہمیں ایک پانچ میٹر لمبی کشتی پر سوار کیا۔ کشتی پر کل 12 افراد سوار تھے۔ ابھی ہم لوگ کچھ ہی دور سمندر میں گئے تھے کہ سامنے سے پہاڑ کی طرح سمندر کی موجیں بلند ہوتی دکھائی دیں۔ اس کیفیت کو دیکھ کر ترک نژاد اسمگلر نے چھلانگ لگا دی اور وہ سمندر میں تیرتا ہوا فرار ہوگیا۔ ہم سمندر کی خونی موجوں سے الجھتے رہے۔ ہماری کشتی الٹ گئی۔ میں اور بیوی بچے اب کھلے سمندر میں تھے اور ہماری مدد کرنے والا کوئی نہ تھا۔ ہم نے الٹی کشتی کو ایک گھنٹے تک پکڑے رکھا۔ اس وقت تک میری بچے زندہ تھے۔ مسلسل پانی میں ہچولے کھاتے ہوئے ایک بیٹے کی موت واقع ہوگئی۔ میں نے اسے چھوڑ دیا اور دوسرے کو سنبھالنے کی کوشش کی۔

کچھ ہی دیر کے بعد میں نے دیکھا کہ دوسرے بیٹے کے منہ سے بھی جھاگ نکل رہی ہے۔ وہ بھی داغ مفارقت دے چکا تھا۔ اس کے بعد میں اہلیہ کو بچانے کے لیے آگے بڑھا تو دیکھا کہ اس کی سانسیں بھی ختم ہوچکی تھیں۔ اس کے بعد میں تین گھنٹے پانی میں رہا۔ تین گھنٹے گذرنے کے بعد ترک کوسٹ گارڈ کا عملہ مجھ تک پہنچا اور انہوں نے مجھے ساحل پر پہنچانے میں مدد کی۔

مصیبت زدہ شامی شہری نے کہا کہ میرے ساتھ پیش آیا واقعہ ہراس شامی خاندان کی بپتا ہے جو ملک میں جاری خانہ جنگی کے باعث دوسرے ملکوں کی طرف نقل مکانی کی کوشش کررہا ہے۔ میری مصیبت سے دنیا کو یہ انداز لگا لینا چاہیے کہ شام کے عوام کن کن مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔

سمندرکی لہروں کی نذر ہونے والے شامی خاندان کے دو بچوں اور ان کی والدہ کی موت پر ان کا پورا خاندان اس وقت سخت دکھ کا شکار ہے۔ بچوں کی ایک پھوپھی تیما کردی نے "فانکوفر" میں کہا کہ میرے بھیتیجے زندگی کی تلاش کے لیے نکلے تھے۔ وہ موت کے مستحق ہرگز نہیں تھے۔ ان کے ساتھ جو بھی ہوا وہ ناقابل بیان اور ناقابل برداشت ہے۔"

تیما کردی کا کہنا تھا کہ میرے بھائی کے خاندان کے ساتھ پیش آنے والے خوفناک واقعے کی ذمہ داری پوری دنیا ہے۔ اس وقت لاکھوں شامی شہری اپنے گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہیں مگر دنیا ان کی مشکلات بانٹنے کے لیے کچھ نہیں کررہی ہے۔ ہم جہاں جاتے ہیں ہمیں رسوا کیا جاتا ہے۔

کینیڈا میں مقیم عبداللہ کردی کی ہمشیرہ تیما نے کہا کہ اس نے ایک دوسرے بھائی کو بھی کینیڈا آنے کی تجویز دی ہے مگر اس نے آنے سے انکار کردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں