جوہری معاہدے کے خفیہ نکات کے افشاء پرایران خوف زدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

#ایران نے مغرب کے ساتھ اپنے متنازع جوہری پروگرام پر طے پائے معاہدے کے بعض خفیہ نکات کے ممکنہ افشاء پر تشویش اور خوف کا اظہار کیا ہے۔ عالمی توانائی ایجنسی "آئی اے ای اے" میں ایران کے مندوب رضا نجفی کا کہنا ہے کہ جوہری معاہدے کے خفیہ مسودے کے ممکنہ افشاء پر ان کے ملک کو تشویش لاحق ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی مندوب رضا نجفی نے کہا کہ تہران اور گروپ 'پانچ پلس' کے درمیان طے پائے سمجھوتے کے بعض نکات صیغہ راز میں رکھے گئے تھے۔ مخفی رکھے گئے نکات میں ایٹمی تنصیبات کا اچانک معائنہ، یورینیم افزودگی کی مقدار چیک کرنا اور جوہری پرگرام کے فوجی پہلو شامل ہیں۔ مگر ان کی تفصیلات کو صیغہ راز میں رکھا گیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی" فارس" کے مطابق تہران نے اپنے جوہری پروگرام پر طے پائے معاہدے کی خفیہ معلومات کو افشاء کرنے پر کسی بھی قسم کا تساہل یا تغافل مسترد کردیا ہے۔ ایران نے آئی اے ای اے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے بعض ممبران کی جانب سے خفیہ معلومات کی فراہمی کو "ایجنسی" کے قوانین اور اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

اپنے خطاب میں مسٹر نجفی نے کہا کہ #جوہری_پروگرام پر معاہدے کا اصل و اصول #تہران اور 1+5 گروپ کا طے شدہ شرائط پرعمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔ ایران کی جانب سے یہ ثابت کیا جائے گا کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، نیز عالمی برادری یا مغرب کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام کی آڑ میں یک طرفہ پابندیوں کے نفاذ کا کوئی بہانہ باقی نہیں رہا ہے۔

رضا نجفی نے بعض یورپی ممالک کی جانب سے ایران میں نئی ایٹمی تنصیبات کے قیام سے متعلق شکوک وشبہات بھی مسترد کردیے۔ انہوں نے کہا کہ آئی اے ای اے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ تہران کے قریب "بارچین" فوجی مرکز کے قیام کو جوہری تنصیبات کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے حالانکہ اس کا جوہری توانائی ایجنسی کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ روٹین کا ایک مرکز ہے۔

خیال رہے کہ بدھ کے روز عالمی توانائی ایجنسی کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ انہیں یہ اطلاعات ملی ہیں کہ ایران اور مغرب کے درمیان طے پائے معاہدے کے بعض پراسرار نکات بھی موجود ہیں۔ ایران کو چاہیے کہ وہ ان کی وضاحت کرے۔ خود ایرانی حکام بھی یہ کہتے پائے گئے ہیں کہ جوہری معاہدے کے چار میں سے دو مسودے خفیہ رکھے گئے ہیں اور دو مسودے ایرانی مجلس شوریٰ میں پیش کیے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں