.

رمی جمرات کے موقع پر بھگدڑ 717 حاجی شہید، 863 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مکہ مکرمہ کے نواح میں منیٰ کی خیمہ بستی میں بھگدڑ سے 717 حاجی شہید اور 863 زخمی ہو گئے ہیں۔ العربیہ کے نامہ نگار نے منیٰ سے بتایا ہے کہ رمی جمرات کے موقع پر ہونے والے حادثے کے باوجود حاجیوں کی جانب سے شیطان کو کنکریاں مارنے کا سلسلہ جاری ہے.

شہید اور زخمی ہونے والے حجاج کی بڑی تعداد پیرانہ سال مرد و خواتین پر مشتمل ہے جو دم گھٹنے سے بے ہوش ہو کر گرے اور بعد میں پچھے آنے والے حاجیوں کے ریلے کے پیروں تلے کچلے گئے۔

محکمہ شہری دفاع کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق حادثہ منیٰ کی 204 شاہراہ پر رونما ہوا۔ بیان کے مطابق ریسکیو کا کام جاری ہے۔ 4000 فوجی اور 220 گاڑیاں ریسکیو کے کام میں مصروف ہیں جبکہ زخمیوں کو مکہ کے چار مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ حادثہ حج کے آخری مناسک بڑے، درمیانے اور چھوٹے شیطان کو کنکریاں مارنے کے موقع پر رونما ہوا جہاں لاکھوں حجاج جمرات کے مقام پر جمع تھے۔

شہری دفاع کا عملہ متاثرہ علاقے میں موجود ہے اور حاجیوں کو بھگدڑ سے بچانے کے لیے متبادل راستے کی طرف راہ نمائی کر رہاہے ۔ حادثے کی جگہ بنائی جانے والی ویڈیو فوٹیج میں لوگوں کو زمین پر لیٹے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ شہری دفاع اور طبی عملہ متاثرین کو مدد فراہم کر رہا ہے۔

عینی شاہدین نے 'العربیہ' کو بتایا کہ جمعرات کو صبح سات بجے حادثے والی سڑک پر موجود سیکیورٹی اہلکار حاجیوں کو تنگ سڑک پر داخل ہونے سے روکتے رہے۔

سعودی عرب کی مرکزی حج کمیٹی کے سربراہ اور مکہ کے گورنر شہزادہ خالد الفیصل نے جائے حادثہ کا دورہ کیا اور سانحہ کی وجوہات جانیں۔ ذرائع نے 'العربیہ' کو بتایا کہ افریقی ملکوں سے تعلق رکھنے والے حجاج حادثے کا سبب بنے۔

یہ واقعہ جمرات کے مقام پر شیطان کو کنکریاں مارنے کے لیے صبح ہی سے بڑی تعداد میں حاجیوں کی آمد کے وقت پیش آیا۔ حاجی اس سنت کی ادائی کے بعد قربانی کا فریضہ ادا کرتے ہیں اور پھر سر کے بال منڈواتے ہیں۔