.

غزہ: حماس اور القاعدہ کے حامیوں میں پنجہ آزمائی دوبارہ شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#فلسطین کے گنجان آباد علاقے #غزہ کی پٹی میں پچھلے چند سال سے #القاعدہ اور اس کی حامی تنظیموں کی غزہ کی حکمراں جماعت اسلامی تحریک مزاحمت #حماس کے ساتھ کشیدگی چلی آرہی ہے۔ حال ہی میں ایک ریکارڈ کی گئی ویڈیو فوٹیج منظر عام پر آئی ہے جس میں القاعدہ کے مقرب #التوحید_بریگیڈ کے کمانڈر علم الدین عامر المعروف ابو عثمان کو اہالیان غزہ کو عیدالاضحیٰ کی مبارک باد پیش کی گئی ہے۔

"توحید بریگیڈ" غزہ کی پٹی میں ایک منظم اور طاقت ور گروپ ہے جس میں عسکری تربیت یافتہ سلفی جہادیوں کی اچھی خاصی تعداد موجود ہے۔ یہ تنظیم جدید مواصلاتی آلات اور جنگی ہتھیاروں سے بھی لیس بتائی جاتی ہے۔

توحید بریگیڈ کا "داعش" اور ولایت سیناء سے تعلق

"التوحید بریگیڈ" دراصل غزہ کی پٹی اور جزیرہ نما سینا میں سرگرم "التوحید والجہاد بریگیٰڈز" اور "جند انصاراللہ" سے وابستہ گروپ ہے۔ اس تنظیم کی حماس کے ساتھ پہلی مسلح جھڑپ 15 اگست 2009ء کو غزہ کی پٹی میں رفح کے مقام پر مسجد ابن تیمیہ میں ہوئی۔ اس تنظیم کے دو کمانڈروں ڈاکٹر عبدالطیف موسیٰ اور شامی نژاد خالد بنات نے مسجد پرحملہ کیا تھا۔ بعد ازاں اس تنظیم میں اردنی نصژاد ھشام السعیدنی بھی شامل ہوا۔ السعیدنی رفح کے راستے ایک سماجی کارکن کے روپ میں غزہ کی پٹی میں داخل ہوا تھا۔ عبدالطیف موسیٰ کے سنہ 2012ء میں قاتلانہ حملے میں قتل کے بعد ھشام السعیدنی کو تنظیم کا نیا کمانڈر مقرر کیا گیا۔

عسکری صلاحیت

"توحید بریگیڈ" ایک منظم اور عسکری تربیت یافتہ عناصر پر مشتمل تنظٰیم کے جس کے #شام، #عراق، #لیبیا اور دوسرے ملکوں میں معاصر عسکری گروپوں کے ساتھ بھی گہرے مراسم ہیں۔ اس کے پاس زمین سے فضاء میں مار کرنے والے "سام 7" ، زمین سے زمین پر مار کرنے والے "گراڈ" اور دیگر غیر روایتی ہتھیار بھی موجود ہیں۔

اگرچہ اس تنظیم نے بہ ظاہر جزیرہ نما سینا میں سرگرم القاعدہ کی ذیلی تنظیم"ولایت سینا" اور دولت اسلامی "داعش" کے ساتھ بھی بیعت کر رکھی ہے مگر اس کے عناصر غزہ کی پٹی میں "توحید بریگیڈ" کے بجائے #ولایت_سیناء ہی کا نام استعمال کرتے رہے ہیں۔

حماس کی تشویش

غزہ کی پٹی کی حکمراں اسلام پسند جماعت اسلامی تحریک مزاحمت "حماس" علاقے میں داعش اور القاعدہ سے وابستہ گروپوں کی سرگرمیوں سے خائف ہے۔ حال ہی میں داعش کی جانب سے انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو فوٹیج پوسٹ کی گئی تھی جس میں موجود جنگجوئوں کو غزہ کی پٹی میں حماس کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کی دھمکی دی تھی۔

داعشی جنگجوئوں کی جانب سے حماس کو دھمکی دی تھی کہ وہ غزہ کو حماس کے لیے دوسرا #یرموک کیمپ بنائے گی، کیونکہ حماس نے شام کے صدر مقام دمشق کے قریب واقع فلسطینی پناہ گزین کیمپ "یرموک" میں شامی اپوزیشن کی حمایت یافتہ فوج کے ساتھ مل کر داعشی جنگجوئوں کو مار بھگانے کی مہم چلائی تھی۔

داعش سے وابستہ گروپ کی جانب سے سنہ 2009ء میں رفح میں جامع مسجد ابن تیمیہ میں حملے کے بعد کہا دعویٰ کیا تھا کہ غزہ کی پٹی جزیرہ سیناء اور داعش کی 'عالمگیر' مملکت کا حصہ ہے۔

مصری ذرائع ابلاغ نے حماس کے ایک ذریعے کے حوالےسے بتایا ہے کہ غزہ میں سرگرم بعض عسکری گروپوں نے داعش اور القاعدہ کی بیعت کی ہے تاہم بعض کے بارے میں مشکوک دعوے سامنے آئے ہیں۔ اس امر کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے کہ غزہ میں سرگرم "جیش الاسلام" نامی گروپ نے داعش کی بیعت کی ہے یا نہیں تاہم التوحید بریگیڈ کے بارے میں مصدقہ اطلاعات ہیں کہ یہ تنظیم داعش کی حمایت یافتہ جزیرہ سیناء کی تنظیم ولایت سیناء کی بیعت کرچکی ہے۔

ولایت سیناء کا غزہ پر قبضے کا خواب

حماس کی جانب سے یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی کے اندر سرگرم تنظیموں کا داعش کی بیعت کرنا نہایت خطرناک ہوسکتا ہے کیونکہ داعش اور ولایت سیناء غزہ کی پٹی پر قبضے کا خواب دیکھ رہی ہیں۔ یہ تنطیمیں غزہ کی پٹی پر کنٹرول کے لیے التوحید بریگیڈ اور دوسرے گروپوں کو عسکری نیٹ ورک مضبوط بنانے میں معاونت کرتی ہیں۔ ان کا مقصد غزہ کی پٹی پر کنٹرول حاصل کر کے حماس کا اثرونفوذ ختم کرنا ہے۔