.

شام میں تازہ دم دستے بھیجنے کو تیار ہیں: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی مجلس شوریٰ [پارلیمنٹ] کی خارجہ وسیاسی کمیٹی کے چیئرمین علاء الدین بروجردی نے کہا ہے کہ ان کا ملک شام میں صدر بشارالاسد کے دفاع کے لیے تازہ دم جنگجو بھیجنے کو تیار ہے۔

خبر رساں ایجنسی"فارس" کے مطابق مسٹر بروجردی نے تہران میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تہران کی جانب سے دمشق کی ہر ممکن مدد جاری ہے۔ ہم نے عراق اور شام دونوں کو فوجی سازو سامان اور عسکری مشیر فراہم کیے ہیں۔ ان ملکوں کی جانب سے مدد کی جو بھی درخواست کی گئی ہم اس پر سنجیدگی سے غور کریں گے۔

شام میں آٹھ ایرانی فوجی ہلاک

ایران کی جانب سے شام کو مزید فوجی امدادی اور جنگجوئوں کی فراہمی کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب دوسری جانب شام میں ایران کے مزید آٹھ فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والے فوجیوں میں دو سینیر عہدیدار شامل ہیں جب کہ پچھلے دو ایام میں ایران کی جانب سے بھیجے گئے چار افغان جنگجو بھی شام میں مارے گئے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی "دفاع" پریس" کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے دو روز میں شام میں دو سینیر فوجی عہدیدار میجر جنرل فرشاد حسونی زادہ اور حمید مختار بند شدت پسندوں کے ساتھ لڑائی میں مارے گئے ہیں۔ ان کے علاوہ شام میں حالیہ ایام میں نادر حمیدی اور رسول بور مراد نامی دو سپاہی اللاذقیہ اور حلب میں باغیوں کے حملے میں مارے گئے۔

قبل ازیں محمد علی خادمی، محمد رحیم رحیمی، سید عارف حسینی اور یار محمد مردانی کے مارے جانے کی بھی اطلاعات آئی تھیں۔ مذکورہ چاروں جنگجو شام میں سرگرم ایران کے "فاطمیون" بریگیڈ میں شامل افغان شہری بتائے جاتے ہیں۔

ایک ہفتے میں 20 ہلاکتیں

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران کی جانب سے ایک ہفتے کےدوران اپنے 20 فوجیوں کے شام کے محاذ جنگ پر مارے جانے کا اعتراف کیا ہے۔ مقتولتین میں 11 سینیر فوجی عہدیدار شامل ہیں جن میں ایک بریگیڈئیر کے عہدے کا افسر بھی ہلاک ہوا ہے۔ مہلوکین میں آٹھ افغانی اور پاکستانی جنگجو بھی شامل ہیں۔ پچھلے ایک ہفتے کے دوران شام میں ہلاک ہونے والے ایرانی فوجیوں میں جنرل حسین ھمدانی بھی شامل ہیں۔