شامی بحران کے حل میں ایرانی کردار سے متعلق سوچنا بھی مشکل ہے:الجبیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ شام میں جاری تنازعے کے حل اور وہاں امن کوششوں میں ایران کے کردار سے متعلق کچھ سوچنا بھی مشکل ہے کیونکہ وہ شامی تنازعے میں ایک فوجی کردار ادا کررہا ہے۔

انھوں نے یہ بات الریاض میں سوموار کو جرمن وزیرخارجہ فرینک والٹر اسٹینمائیر کے ساتھ مشترکہ نیوزکانفرنس میں کہی ہے۔جرمن وزیرخارجہ ایران کے دورے کے بعد سعودی عرب پہنچے ہیں اور انھوں نے اپنے ہم منصبوں سے شام میں جاری جنگ کے خاتمے سے متعلق امور پر بات چیت کی ہے۔

عادل الجبیر نے سعودی عرب کے اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ شام میں قیام امن کے لیے بشارالاسد کو اقتدار چھوڑنا ہوگا۔انھوں نے کہا کہ اس سوال کا جواب بہت سادہ ہے کہ کیا ایران کو شامی بحران کے حل میں کردار ادا کرنا چاہیے؟اس کے لیے ایران کو شام سے انخلاء کرنا ہو گا،اپنی آلہ کار شیعہ ملیشیاؤں کو واپس بلانا ہوگا،بشارالاسد کی حکومت کو ہتھیار مہیا کرنے کا سلسلہ بند کرنا ہوگا۔اس کے بعد ہی بحران کے حل میں ایران کا کوئی کردار ہوسکتا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت تو ایران شام میں عرب سرزمین پر ایک قابض قوت ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''اگر جنیوا اول سمجھوتے کے مطابق ایک عبوری حکومت قائم ہوجاتی ہے تو اس کے بعد بشارالاسد کو فوری طور پر اقتدار چھوڑ دینا چاہیے۔اگر یہ مہینوں کا معاملہ ہے،دو یا تین ماہ یا اس سے کم کا معاملہ ہے تو کوئی زیادہ اہم نہیں مگر بشارالاسد کا شام میں کوئی مستقبل نہیں ہے''۔

سعودی وزیرخارجہ کا کہناہے کہ بشارالاسد کے شام میں آیندہ انتخابات کے انعقاد تک برسراقتدار رہنے کی تجویز کو واپس لے لیا گیا ہے اوران انتخابات میں ان کے حصہ لینے یا نہ لینے سے کچھ فرق نہیں پڑھے گا۔

انھوں نے نیوز کانفرنس میں اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ایران عراق ،شام، لبنان اور یمن سمیت علاقائی ممالک کے داخلی امور میں مداخلت کا سلسلہ بند کردے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ''ہم ایران کی جانب سے کسی بھی محاذ آرائی کا مقابلہ کرنے کے لیے پُرعزم ہیں اور ہم اپنی سرزمین اور عوام کے تحفظ کے لیے سیاسی ،اقتصادی اور عسکری ذرائع کو بروئے کار لائیں گے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں