.

روس کی ایلیٹ فورس کی شام میں تعیناتی کا انکشاف

فوجیوں کو یوکرائن سے بلا کر شام بھجوایا گیا:امریکی اخبار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں پچھلے ایک ماہ سے روس کی فوجی مداخلت کے بعد تازہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ماسکو نے مشرقی یوکرائن کے محاذ پر متعین کیے گئے ایلیٹ فورس کے اسپیشل کمانڈوز کو وہاں سے واپس بلانے کے بعد شام بھیجا گیا ہے۔

امریکی اخبار"وال اسٹریٹ جرنل" نے اپنی رپورٹ میں ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے لکھا ہے کہ روسی ایلیٹ فورس کی شام میں اہم ترین ذمہ داری شامی فوج اور روسی فضائیہ کے درمیان فضائی حملوں کے دوران باہمی رابطہ اور ہم آہنگی پیدا کرنا ہو گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ روسی حکومت نہ صرف عسکری پہلو سے شامی فوج اور صد بشارالاسد کی بھرپور مدد کر رہی ہے بلکہ سفارتی محاذ پر بھی ماسکو اسد رجیم کو بچانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور صرف کر رہا ہے۔

عسکری محاذ میں اسد رجیم کی مدد کے لیے روس نے پہلے مرحلے میں جدید ترین جنگی طیاروں اور سامان حرب وضرب سے لیس فوجیوں کی بڑی تعداد شام بھیجی جس کے بعد اب ایلیٹ فورس کے اسپیشل کمانڈوز کو بھی شام کے محاذ پر تعینات کیا گیا ہے۔ شام لائے گئے روسی ایلیٹ فورس کے اہلکار مشرقی یوکرائن کے محاذ پر خدمات انجام دے چکے ہیں اور وہ جنگ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی اور مغربی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ روس نے شام میں جو ایلیٹ فورسز تعینات کی ہے وہ امریکا کی "ڈیلٹا فورس" کی ہم پلہ ہے جسے انسداد دہشت گردی کے لیے خصوصی تربیت دے کر تیار کیا گیا ہے۔

مغربی سفارتی ذرائع نے شام میں ایلیٹ فورسز کی تعینیاتی کےاغراض ومقاصد واضح نہیں کیے گئے تاہم امریکی عہدیدار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ روسی ایلیٹ فورس کے کمانڈوز شام میں اسدی فوج اور روسی فضائیہ کے درمیان حملوں کے اوقات میں باہمی رابطے کا کام کریں گے۔ اس کے علاوہ حسب ضرورت یہ فوجی براہ راست جنگ میں حصہ لیں گے۔

دوسری جانب روسی وزارت دفاع نے شام میں ایلیٹ فورس کے اہلکاروں کی تعیناتی کی خبریں بے بنیاد قرار دے کر مسترد کردی ہیں۔ ماسکو کا کہنا ہے کہ روس شام میں زمین کارروائیوں میں حصہ نہیں لے گا۔ ہماری تمام تر توجہ صرف فضائی حملوں اور شامی فوج کی مشاورتی رہ نمائی تک محدود ہے۔ ہم شامی فوج کو فراہم کردہ اسلحہ کے استعمال کے بارے میں رہ نمائی فراہم کر رہے ہیں۔