سعودی عرب میں تاریخی مساجد زائرین کے لئے کھل گئیں
عمرہ کے لئے آنے والے زیارتوں کے لئے زیادہ وقت نکال کر آئیں
سعودی عرب کے کمیشن برائے سیاحت و قومی ورثہ اور 'التراث' فائونڈیشن نے ملک بھر میں تاریخی اہمیت کی حامل 21 مساجد کی ضروری مرمت کے بعد زائرین کے لئے کھول دی ہیں۔
کمیشن نے اپنی 39 ویں اجلاس میں فیصلہ کیا کہ اسلامی امور کی وزارت کی معاونت سے ملک بھر میں دوسری تاریخی مساجد کو بھی جلد زائرین کے کھولا جائے گا۔
التراث فائونڈیشن گذشتہ 17 سالوں سے کمیشن کے تعاون سے مساجد کی بحالی کا کام کر رہے ہیں۔ بحال کی جانے والی مساجد میں ینبع میں الزاویہ مسجد اور اس کے علاوہ الغمامہ اور ابو بکر صدیق مساجد شامل ہیں۔ مدینہ میں عمر بن الخطاب مسجد کو بھی زائرین کے لئے کھول دیا گیا ہے۔
ریاض میں موجود مسجد الشافع مرحوم شاہ عبداللہ کی جانب سے مختص بجٹ کو استعمال میں لاتے بحال کی گئی ہے جبکہ ریاض ہی کی الاوشازہ مسجد مرحوم شہزادی سلطانہ بنت احمد السدیری کی امداد سے بحال کر دی گئی ہے۔
عصیر میں امام سعود بن عبدالعزیز بن محمد بن سعود جامعہ مسجد کو بھی مرحوم شاہ عبداللہ کی جانب سے جاری کردہ گرانٹ سے بحال کر دیا گیا ہے۔ جبیل اور ینبع کے شاہی کمیشن کی مدد سے مشرقی صوبے کی چھ مساجد بحال کر دی گئی ہیں جن میں سے پانچ الاحساء اور ایک جبیل کے نزدیک موجود ہے۔
اگلے مرحلے میں 87 مساجد کو بحال کیا جائے گا جن میں مکہ کی چار، مدینہ کی آٹھ، ریاض کی 14، قاسم کی پانچ، عصیر کی 36، تبروک کی چھ، جازان کی چھ، نجران کی چار اور بہاء کی چار مساجد شامل ہیں۔