حزب اللہ کے ساتھ ہمارا مسئلہ اس کا اسلحہ ہے.. ہم چاہتے ہیں کہ وہ اپنے وعدے پورے کرے
لبنانی وزیر اعظم نے اسلام آباد مذاکرات سے اپنے ملک کے متاثر ہونے کی تصدیق کی، تاہم اس بات پر زور دیا کہ ان کی جانب سے کوئی اور مذاکرات نہیں کر سکتا
لبنان کے وزیرِ اعظم نواف سلام نے حزب اللہ تنظیم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کے مفادات پر ملک کے مفاد کو ترجیح دے اور جنوبی لبنان سے اسرائیلی انخلاء کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کے ساتھ ایک ہی راستے پر چلے۔
سلام نے آج ہفتے کے روز روئٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ حزب اللہ تنظیم کو ہم سے تیز یا ہماری رفتار کے برابر ہونا چاہیے... اور اسے واشنگٹن میں ہونے والی بات چیت کی حمایت کا اعلان کرنا چاہیے۔
اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکی سرپرستی میں یہ مذاکرات 22 جون کو دوبارہ شروع ہونے والے ہیں۔
مذاکرات سے واقف ایک لبنانی ذریعے نے بتایا کہ تہران،،، بیروت کے اسرائیل کے ساتھ آزادانہ مذاکرات کے فیصلے پر برہم ہے، کیونکہ وہ اسے واشنگٹن کے ساتھ اپنی کشمکش میں ایران کو ایک اہم مذاکراتی پتے سے محروم کرنے کے مترادف سمجھتا ہے۔
لبنان ایک مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کر رہا ہے تاکہ مکمل اسرائیلی انخلاء ہو سکے اور لبنانی فوج کی نگرانی میں لاکھوں بے گھر شہری واپس آ سکیں۔ دوسری طرف اسرائیل اپنی فوج کو تسلیم کروانے کے لیے حزب اللہ تنظیم کو عسکری قوت کے طور پر ختم کرنا چاہتا ہے۔
نواف سلام نے اسلام آباد میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کے اثرات کو تسلیم کیا، لیکن ایک آزاد ریاست کے طور پر مذاکرات کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی نمائندگی کوئی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم جنگ اور امن سے متاثر ہوتے ہیں اور اگر یہ راستہ جنگ بندی کی طرف لے جاتا ہے تو ہم یقیناً اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔
سلام نے حزب اللہ تنظیم کے تخفیفِ اسلحہ کو اسرائیلی شرط قرار دینے کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ 1989 کے معاہدہ طائف میں لبنانیوں نے ریاست کی مکمل بالادستی پر اتفاق کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم حزب اللہ تنظیم سے مسلسل رابطے میں ہیں اور ان سے صرف یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنے وعدے پورے کریں۔ جنوبی لبنان کو اسلحہ سے پاک ہونا چاہیے اور حزب اللہ تنظیم نے دو بار حکومت کو اعتماد دیا ہے جس کا وزارتی بیان اسلحہ کی انحصار پر زور دیتا ہے۔
واضح رہے کہ حزب اللہ تنظیم نے واشنگٹن مذاکرات میں طے پانے والے جنگ بندی منصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔ اور اس کے سکریٹری جنرل نعیم قاسم نے ان مذاکرات کو شرم ناک قرار دیا ہے۔
لبنانی وزارت صحت کے مطابق 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں تقریباً 3700 افراد شہید اور 11 ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ 12 لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔
نواف سلام نے حزب اللہ تنظیم سے مخاطب ہو کر کہا کہ اگر وہ اپنے لوگوں کی تکالیف کے بارے میں مخلص ہے تو اسے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے مستقبل کے بارے میں واشنگٹن نے کوئی ضمانت نہیں دی، لیکن بہتر ہے کہ امریکی ثالث کی بات سنی جائے اور سیاسی شور شرابے پر توجہ نہ دی جائے۔
تہران نے لبنان میں جنگ بندی کو واشنگٹن کے ساتھ وسیع تر معاہدے کی بنیادی شرط بنا رکھا ہے۔ جمعہ کو امریکہ اور ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کے قریب ہونے کا اشارہ دیا ہے۔
سلام نے بات ختم کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا حزب اللہ تنظیم کے ساتھ اصل مسئلہ ان کا اسلحہ ہے، ہم انہیں ایک لبنانی سیاسی قوت سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ اپنے لبنانی وعدوں کی پاسداری کریں۔
-
امریکہ ایران معاہدے کا لبنان کو حصہ بنائے جانے کے لیے حزب اللہ پر اعتماد
ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کو پورا بھروسہ ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے ...
مشرق وسطی -
جنوبی لبنان پر اسرائیل کی شدید بمباری، بیس قصبوں کو خالی کرنے کا الٹی میٹم
ضلع النبطیہ کے قصبے دیر الزہرانی پر رات گئے تین ہولناک فضائی حملوں کے بعد صیہونی ...
مشرق وسطی -
لبنان فرقہ وارانہ اور علاقائی کشمکش کا متحمل نہیں ہو سکتا:صدر عون
لبنان کے صدر جوزف عون نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ ملک ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے، ...
مشرق وسطی