طیارہ حادثہ تحقیقات میں مغرب کا عدم تعاون باعث حیرت
مصری علاقے سیناء میں روسی مسافر طیارے کو پیش آنے والے حادثے کی بازگشت ابھی تک سنائی دے رہی ہے۔ حادثے کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے اب تک ہونے والی تحقیق کی روشنی میں بتایا ہے کہ حادثے کا سبب بننے والے تمام مفروضوں پر کام جاری ہے۔
درایں اثنا مصری وزیر خارجہ سامح شکری نے مغربی ملکوں کی جانب سے مصری اداروں کے ساتھ حادثے سے متعلق مفروضوں کی تحقیق تعاون نہ کرنے کی روش پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔
روس سمیت متعدد یورپی ملکوں کے طیارہ حادثے کے بعد کئے جانے والے فیصلوں سے بھی مصریوں کی بڑی اکثریت صدمے کی کیفیت میں ہے۔ ان ملکوں نے اپنے شہریوں کے شرم الشیخ آنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے جلد از جلد وہاں پھنسے ہوئے اپنے شہریوں کی وطن واپسی کا اعلان کر کے ایک عجیب صورتحال پیدا کر دی۔
مصری وزیر خارجہ سامح شکری نے بعض ملکوں کے عدم تعاون اور مصر سے ان معلومات کے تبادلے میں پس وپیش سے کام لینے پر تنقید کی ہے جن میں روسی مسافر طیارے میں بم رکھے جانے کے مفروضہ کا ذکر کیا تھا۔
طیارہ حادثہ کی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ نے اکیلے ہی نیوز کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک ملنے والی معلومات میں کسی بھی مفروضہ کو سچ ثابت نہیں کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حتمی اعلان تک پہنچنے کے لئے ہمیں مزید وقت لگ سکتا ہے۔
دوسری جانب مصر کے اندر عوام کو شرم الشیخ جانے اور وہاں اپنی چھٹیاں گزارنے کی ترغیب دینے کے لئے بڑے پیمانے پر اشتہاری مہم جاری ہے تاکہ اس مشکل وقت میں شہر کی سیاحت صنعت کو معاشی سنبھالا دیا جا سکے۔