مصر میں ٹی وی اینکر کو کام سے کیوں روکا گیا؟

خاتون اینکر لائیو پروگرام میں ماورا سکرپٹ باتیں کہہ گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایک مصری ٹیلی ویژن نیٹ ورک نے معروف خاتون اینکر پرسن عزہ الحناوی کو پروگرام کرنے سے روکتے ہوئے اس کے خلاف انضباطی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق عزہ الحناوی نے اپنے فلیگ شپ پروگرام 'اخبار القاھرہ' کے ایک براہ راست شو میں صدر عبدالفتاح السیسی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ حالیہ بارشوں کے دوران اسکندریہ اور البحیرہ میں ہونے والی تباہی کے ذمہ دار حکومتی عمال کا احتساب کریں۔ تحقیقات کا یہ عمل صدر مملکت کی ذات سے شروع ہو کر ادنی ترین سرکاری ملازم تک جاری رہنا چاہئے۔

ریجینل نیوز چینلز کے سربراہ ھانی جعفر نے بتایا کہ ریڈیو اینڈ ٹیلی ویژن یونین کے سربراہ عصام الامیر نے عزہ الحناوی کا پروگرام بند کرتے ہوئے انہیں تحقیقات مکمل ہونے تک معطل کر دیا ہے۔

عزہ کے لائیو شو کی ریکارڈنگ کا بغور جائزہ لیا جائے گا کیونکہ اس میں انہوں نے ماورا سکرپٹ گفتگو کر کے غیر جانبداری اور پیشہ ورانہ اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے اور سکرین پر اپنی رائے پیش کی ہے۔

عزہ الحناوی نے خود پر لگائی جانے والے پابندی اور چارج شیٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے صدر مملکت کو کرپٹ اور کام چور سرکاری عمال کے خلاف احتساب کارروائی کا کہہ کر کسی قانون یا دستور کی خلاف ورزی نہیں کی۔

انہوں نے بتایا کہ میرے لائیو شو کی قسط تو حکومتی چینل کے حق میں تھی کیونکہ اسے یو ٹیوب پر دسیوں ہزار افراد دیکھ چکے ہیں۔ عزہ الحناوی نے تحقیقات مکمل ہونے تک اپنے ٹی وی چینل کی عمارت میں داخلے پر پابندی کے فیصلے پر بھی حیرت کا اظہار کیا ہے۔ وہ ان دنوں گھر میں بیکار بیٹھی ہیں۔

عزہ الحناوی نے عندیہ ظاہر کیا ہے کہ وہ ٹی وی اینڈ ریڈیو یونین کے سربراہ کے خلاف مقدمہ کریں گی کیونکہ انہوں نے تحقیقات کا نتیجہ آنے سے قبل ہی اس پر پابندی عائد کر دی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں