.

ویانا امن مذاکرات: شام میں 6 ماہ میں انتقالِ اقتدار پر اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں شام امن مذاکرات میں شریک عالمی سفارت کاروں نے خانہ جنگی کا شکار ملک میں چھے ماہ میں عبوری حکومت کے قیام اور اٹھارہ ماہ میں نئے عام انتخابات کے انعقاد سے اتفاق کیا ہے۔

ان مذاکرات میں سترہ ممالک کے وزرائے خارجہ اور تین عالمی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی ہے۔امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے مذاکرات کے بعد نیوزکانفرنس میں بتایا ہے کہ اجلاس میں شام میں جاری تنازعے کے خاتمے کے لیے کوششیں تیز کرنے سے اتفاق کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جنوری تک شامی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان براہ راست مذاکرات شروع کرائے جائیں گے اور آیندہ اٹھارہ ماہ میں انتخابات کرائے جائیں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک نے شام میں جنگ بندی کے حق میں ایک قرارداد منظورکرانے سے اتفاق کیا ہے۔البتہ انھوں نے واضح کیا کہ جنگ بندی کا اطلاق سخت گیر جنگجو گروپ داعش ،القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ اور دوسرے دہشت گرد گروپوں پر نہیں ہوگا۔

جرمن وزیرخارجہ فرینک والٹر اسٹینمائیر نے بھی اس موقع پر کہا کہ ''ہم نے شام میں اٹھارہ ماہ میں انتقال اقتدار کے عمل کی تکمیل سے اتفاق کیا ہے''۔انھوں نے کہا کہ ویانا میں شام امن مذاکرات کے پہلے دور کے بعد گذشتہ چودہ روزمیں ہم نے تنازعے کے حل کی جانب بڑھنے کے لیے پیش رفت کی ہے اور یہ اجلاس پیرس میں تباہ کن حملوں کے تناظر میں ہوا ہے جس کے بعد تنازعے کے حل کے لیے آگے بڑھنے کے عزم میں اضافے ہوا ہے۔

روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف کا کہنا تھا کہ شام امن مذاکرات کے تمام فریق فوری جنگ بندی کے حق میں نہیں ہیں۔مذاکرات کے بعد جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ''سفارت کاروں نے قریباً ایک ماہ کے عرصے میں دوبارہ مل بیٹھنے سے اتفاق کیا ہے اور ان میں جنگ بندی اور امن عمل کو دوبارہ شروع کرنے پر غور کیا جائے گا''۔یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا مغرینی نے ویانا میں مذاکرات کو سراہا ہے۔