.

''شام میں روسی مداخلت ایران کی سلامتی کے لیے خطرہ"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے وزیر محکمہ سراغرسانی محمود علوی نے شام میں روس کی فوجی مداخلت کے حوالے سے تہران کے سرکاری موقف سے الگ موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "ماسکو کی فوجی مداخلت ایران کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔"

تہران میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمود علوی کا کہنا تھا کہ روس کی شام میں فوجی مداخلت سے ہمارے دشمن ایران کے خلاف اپنی سازشوں میں شدت پیدا کریں گے، جس کے نتیجے میں ایران کی قومی سلامتی کو مزید خطرات لاحق ہو جائیں گے۔

خیال رہے کہ ایران کے وزیر برائے انٹیلی جنس امور کی جانب سے بشار الاسد باغیوں کی سرکوبی کے لیے روس کی فوجی مداخلت سے متعلق یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری طرف تہران کا سرکاری موقف اس کے برعکس ہے۔ ایرانی حکومت کی جانب سے شام میں ماسکو کی مداخلت کو سراہا گیا ہے۔

محمود علوی کے بیان سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ تہران کے دیرینہ اتحادی شام میں روسی فوج کی مداخلت کے حوالے سے ایران کے حکومتی حلقوں میں بھی گہرے اختلافات موجود ہیں۔

ایرانی نیوز ویب پورٹل"تابناک"کے مطابق پاسداران انقلاب کے سابق چیف اور گارڈین کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے حال ہی میں ایک رپورٹ تیار کی ہے جس میں شام کے بحران کے حوالے سے روس اور ایران کے موقف میں پائے جانے والے اختلافات کا ذکر ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روس، شام کے بحران کے حل کے لیے جیش الحر سمیت تمام اہم فریقوں کو مذاکرات میں شامل کرنے کا خواہاں ہے جب کہ ایران، شامی اپوزیشن سے بات کرنے کو تیار نہیں۔ اس ضمن میں ایران اور روس کے درمیان گہرے اختلافات موجود ہیں۔

درایں اثناء ایرانی سیکیورٹی اداروں نے ملک کے مختلف شہروں میں تلاشی کی کارروائیوں کے دوران 40 افرا کو حراست میں لیا ہے۔

ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق پولیس نے بلوچستان، کلستان، مازندان، تہران سے 40 جبکہ مغربی ایران کے ضلع کردستان سے20 افراد کو حراست میں لیا ہے۔ ایرانی پولیس کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے تمام افراد مشتبہ دہشت گرد ہیں جو شام اور عراق میں جنگ کے لیے جانے کی کوشش کر رہے تھے۔