روسی آپریشن کے بعد شام میں 188 ایرانی فوجی ہلاک
شام میں صدر بشارالاسد کے مخالف باغیوں کے خلاف روسی فوج کی کارروائی شروع ہونے کے بعد دو ماہ میں اب تک 188 ایرانی فوجی بھی داد شجاعت دیتے ہوئے بشارالاسد پر قربان ہو گئے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اس بات کا اعتراف پاسداران انقلاب کے زیرانتظام القدس فورس کے مشیر اعلیٰ بریگیڈٰئر حسن کریم بور نے اپنے ایک تازہ بیان میں کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اکتوبر کے اوائل سے شام میں روسی فوج کی کارروائیوں کے بعد ایران کے 188 فوجی بھی مارے گئے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی"ایسنا" نے بریگیڈئر کریم بور کا بیان نقل کیا ہے۔ انہوں نے وسطی ایران کے رفسنجان شہر میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ایک سو اٹھاسی فوجی شام کے محاذ جنگ پر پچھلے دو ماہ کے دوران مارے جا چکے ہیں۔ ایرانیوں فوجیوں کی ہلاکتیں شام میں امریکا، اس کی حلیف باغیوں اور دولت اسلامی"داعش" کے خلاف لڑتے ہوئے ہوئی ہیں۔ بریگیڈئر حسن کریم بورکا کہنا تھا کہ شام کے محاذ جنگ میں ایران کا کلیدی کردار ہے۔ ہمارے فوجی جوان اس جنگ میں اپنا خون پیش کر رہے ہیں۔
قبل ازیں ایرانی اخبارات نے خبر دی تھی کہ ایران میں پاسداران انقلاب کے فوجی اہلکاروں اور ایران کے توسط سے شام پہنچنے والے افغان اور پاکستانی جنگجوئوں سمیت 400 جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ ہلاکتیں سنہ 2011ء کے بعد سے شام میں جاری لڑائی کے دوران بتائی گئی ہیں تاہم بعض دوسرے ذرائع شام میں ہلاک ہونے والے ایرانی فوجیوں اور نیم فوجی جنگجوئوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ بیان کرتے ہیں۔
درایں اثناء ایرانی اپوزیشن کے ایک ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ تہران نے القدس بریگیڈ کے سربراہ جنرل قاسم سلیانی کو علاج کے بعد دوبارہ شام بھیج دیا ہے۔ جنرل سلیمانی چند ہفتے پیشتر حلب میں حکومت مخالف گروپوں کے ساتھ لڑائی میں زخمی ہو گئے تھے، جس کے بعد انہیں علاج کے لیے تہران واپس بلایا لیا گیا تھا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق ایرانی رجیم کی مخالف تنظیم "مجاھدین خلق" کے ایک عہدیدار محمد سید محدثین نے بتایا کہ جنرل قاسم سلیمانی 14 نومبر کو شام کے حلب شہر میں باغیوں کے ساتھ لڑائی میں معمولی زخمی ہوئے تھے جس کے بعد انہیں تہران بلایا گیا تھا۔ علاج کے بعد انہیں دوبارہ شام بھیج دیا گیا ہے۔