.

امریکی قیدی کو نصف صدی بعد دُنیا کیسی لگی؟

44 سال جیل میں رہنے والے جانسن کے لیے دنیا عجیب ہو چکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برق رفتاری سے ترقی کرتے آج کے سائنسی دور میں ہر چیز تیزی سے تبدیلی کے مراحل طے کر رہی ہےاور محض چند برسوں میں شہروں کا نقشہ تک بدل جاتا ہے۔ ایسے میں عشروں بعد جیل کی کال کوٹھڑی سے باہر نکلنے والے کسی شخص کے لیے دنیا اجنبی اور عجیب ہو سکتی ہوتی ہے اس کا جواب 69 سالہ اوٹیز جانسن ہی بتا سکتے ہیں جنہوں نے زندگی کے پورے 44 سال امریکی جیل میں گذار دیے۔

جانسن کی چار دہائیوں سے لمبی قید کے بعد رہائی پر تو دُنیا ہی بدل چکی ہے۔ چوالیس سال پیشترامریکا، نیویارک اور واشنگٹن کیسے تھے؟ لوگوں کا طرز زندگی کیسا تھا اور آج نصف صدی بعد دنیا کیسی ہوچکی ہے؟ یہ سب کچھ دیکھ اور محسوس کرکے جانسن حیرت و استعجاب میں ڈوب جاتا ہے!

موبائل فون، انٹرنیٹ، کمپیوٹر، جدید ٹیکنالوجی کے آلات اور نظروں کو خیرہ کردینے والی ترقی اور اس کے مقابلے میں نصف صدی پہلے کا امریکا کس قدر مختلف تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے دور کو ماضی سے تقابل کرتے ہوئے جانسن کو اس کی یادیں قید سے پہلے والے دور کی طرف لے جاتی ہیں۔

برطانوی اخبار" انڈی پینڈنٹ" کے مطابق جانسن کو 44 سال قبل امریکی پولیس نے نیویارک سے ایک پولیس اہلکار پر قاتلانہ حملے کے الزام میں گرفتار کیا اور اسے اسی الزام میں 44 سال قید کی سزا ہوئی تھی۔

دنیا میں دن رات ہونے والے تغیرات سے لاعلم جانسن چوالیس سال تک جیل میں بند رہا۔ آج جب وہ جیل سے باہر آیا تو اسے ایک نئی دنیا دیکھ یقین بھی نہیں آتا کہ دنیا میں اتنا کچھ بدل گیا ہو گا۔ جانسن نیویارک میں ٹائمز اسکوائر کو دیکھتا ہے اور اس پر حیران ہوتا ہے کہ کس طرح یہاں زندگی بدل گئی ہے۔

جب اسے پوچھا گیا کہ وہ جیل سے باہر آ کر کیسا محسوس کرتا ہے تواس نے پہلے تو اپنی جیل کی ناخوشگوار یادوں کا تذکرہ کیا۔ جانسن کا کہنا تھا کہ جیل کی زندگی نے اس پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ اس نے بتایا کہ جب میں نے جیل سے باہر قدم رکھا تو ایک نئی دنیا دیکھ کر حیران ہوا۔ دُور سے میں نے محسوس کیا کہ لوگ خود کلامی کر رہے ہیں مگر جب ان کے قریب آیا تو معلوم ہوا کہ وہ موبائل فون پر باتیں کر رہے ہیں۔ مجھے پھر بھی سمجھ نہ آئی اور موبائل پر باتیں کرنے والوں کو میں نے انٹیلی جنس اداروں کے اہلکار سمجھا کہ ایسی سہولت خفیہ اداروں کے پاس ہی ہو سکتی ہے۔

جانسن نے بتایا کہ میرے لیے پریشانی اور حیرانی کی ایک بڑی بات یہ بھی ہوئی کہ جب میں جیل سے نکلا تو مجھے اپنا خاندان تلاش کرنا مشکل ہو گیا کیونکہ میرے اہل خانہ کا مجھ سے آخری بار سنہ 1998ء میں رابطہ ہوا تھا۔ میں پریشان تھا کہ اپنے گھر والوں تک کیسے پہنچوں اور انہیں کہاں تلاش کروں؟

جانسن موجودہ طرز زندگی کا عادی نہیں مگر وہ خود کو اس میں ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ خیال رہے کہ امریکا میں ایسے ہزاروں کی تعداد میں قیدی رہے ہیں جنہیں سال ہا سال تک جیلوں میں رکھا گیا مگر جانسن اپنی نوعیت کا واحد کیس ہے جس نے چوالیس سال جیل میں گزارے۔ سنہ 2013ء میں امریکی وزارت انصاف کےدفترسے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ 20 سال جیلوں میں رہنے والے 3 ہزار 900 افراد کو رہا کیا گیا ہے۔