.

دہشت گردی کا کوئی دین و مذہب نہیں: شاہ سلمان

'اسلام نے سب سے بڑھ کردہشت گردی کی مذمت کی'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خادم الحرمین الشریفین #شاہ_سلمان بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ #دہشت_گردی کا کوئی دین اور مذہب نہیں۔ اس لعنت کی سب سے زیادہ مذمت #اسلام کرتا ہے۔ دہشت گردی کو اسلام سے جوڑ کر دین حنیف کو بدنام کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ عرب خطہ اس وقت نئے چیلنجز کا سامنا کررہا ہے۔

العربیہ ٹی وی کے مطابق شاہ سلمان نے ان خیالات کا اظہار #ریاض میں منعقدہ #خلیج_تعاون_کونسل کی سربراہ کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ #شام کے بحران کے حل کے لیے #جنیوا وَن اجلاس میں طے پائے نکات قابل عمل ہیں، انہی کی روشنی میں شامی قضیے کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

انہوں نے عالمی اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ #یمن میں امن امان اور ملک کے استحکام کے لیے کوششیں تیز کریں۔

شامی اپوزیشن میں اتحاد کی ضرورت پر زور

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امیر قطر الشیخ #تمیم_بن_حمد آل ثانی نے شام کی حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے تمام دھڑوں پر اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ شامی اپوزیشن کو ایک ہی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان سے نمٹنے کے لیے اپوزیشن کو اپنی صفوں میں ہر صورت میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن دھڑے امن مذاکرات شروع کریں اور بات چیت کے ذریعے اپنے موقف میں یکسانیت پیدا کریں۔

خلیج تعاون کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امیر #قطر نے کہا کہ ہم ماضی میں بھی شامی اپوزیشن کو اپنی صفوں میں اتحاد اور یکجہتی پیدا کرنے پر زور دیتے رہے ہیں۔ اپوزیشن کی ذمہ داریاں اب بہت بڑھ چکی ہیں۔ انہیں سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے ایک فورم پر جمع کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔ اس لیے وہ اس موقع کو غنیمت جانیں اور ملک کے بحران کے حل کے لیے ایک موقف پر متحد ہو جائیں۔

ایران سے دوستانہ تعلقات

ریاض میں منعقدہ خلیجی تعاون کونسل کے سربراہ اجلاس کے دوران کونسل کے سیکرٹری جنرل #عبدالطیف_الزیانی نے کہا کہ ایرانی کی معاندانہ پالیسیوں کے باوجود خلیجی ممالک نے ہمیشہ #تہران سے دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے مگر اس کےباوجود تہران کی جانب سے خلیجی ممالک میں کھلی مداخلت اور ان کی اراضی پر قبضے پر اصرار ہی دیکھا گیا۔ #ایران دہشت گرد گروپوں کو مالی اور عسکری مدد بھی جاری رکھے ہوئے ہے اور خلیجی ممالک کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی سازشوں سے بھی باز نہیں آیا ہے۔

الزیانی کا کہنا تھا کہ ایران دوستی چاہتا ہے تو اسے خطے کے ممالک میں مداخلت کا سلسلہ بند کرنا ہوگا۔

خیال رہے کہ خلیجی تعاون کونسل کی دو روزہ سربراہ کانفرنس کل بدھ کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقد ہوئی۔ اجلاس میں خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک میں رہائش، روزگار، تجارت، پیشہ وارانہ امور، سماجی بہبود، صحت اور سوشل انشورینس کے شعبوں میں ایک ہی جیسے اصول اپنانے پر اتفاق کیا گیا۔