.

لیبیا میں جھڑپوں کے بعد تیل کے چار ٹینک نذرآتش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی سب سے بڑی بندرگاہ پر سخت گیر جنگجو گروپ دولتِ اسلامیہ عراق وشام (داعش) اور سرکاری محافظوں کے درمیان جھڑپوں کے دوران لگنے والی آگ تیل کے چار ٹینکوں تک پھیل گئی ہے اور اس پر قابو نہیں پایا جاسکا ہے۔

لیبیا کی تیل کی تنصیبات کی حفاظت کے ذمے دار ادارے کے ترجمان علی الحاسی نے بتایا ہے کہ محافظوں کا السدر اور راس لانوف کی بندرگاہوں پر کنٹرول برقرار ہے لیکن جھڑپیں جاری ہیں۔گذشتہ دو روز میں داعش کے جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپوں میں نو محافظ ہلاک اور چالیس سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

ترجمان نے مزید بتایا ہے کہ لڑائی میں داعش کے تیس جنگجو ہلاک ہوئے ہیں اور ان کی لاشیں محافظوں کے قبضے میں ہیں۔اس کے علاوہ انھوں نے داعشی جنگجوؤں کے قبضے سے دو فوجی ٹینک اور دوسری گاڑیاں بھی چھین لی ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ السدر میں تیل کے تین ٹینکوں اور راس لانوف میں ایک ٹینک میں لگی آگ کو عملہ کنٹرول کرنے کی کوشش کررہا ہے۔داعش کی گولہ باری سے دو ٹینکوں کو آگ لگی تھی اور پھر دو دوسرے ٹینکوں تک پھیل گئی تھی۔

السدر اور راس لانوف سے دسمبر 2014ء سے تیل کی برآمد بند ہے ۔یہ دونوں بندرگاہیں سرت اور مشرقی شہر بنغازی کے درمیان واقع ہیں۔سرت پر داعش کے جنگجوؤں کا قبضہ ہے۔

لیبیا میں 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر مقتول کرنل معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے خانہ جنگی جاری ہے اور اس وقت ملک میں دو متوازی حکومتیں چل رہی ہیں۔دارالحکومت طرابلس میں اسلامی جنگجو گروپوں پر مشتمل فجر لیبیا کی حکومت ہے جبکہ مغرب کے حمایت یافتہ وزیراعظم عبداللہ الثنی کی حکومت کے دفاتر اور پارلیمان مشرقی شہر طبرق اور بیضاء میں قائم ہیں۔

حالیہ مہینوں کے دوران لیبیا میں جاری خانہ جنگی سے داعش نے بھی فائدہ اٹھایا ہے اور اس کے جنگجوؤں نے شام اورعراق سے لیبیا میں دراندازی کرکے معمر قذافی کے آبائی شہر سرت کے علاوہ بعض دوسرے علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے جبکہ خلیفہ حفتر کی قیادت میں فوج نے لیبیا کے مشرقی شہروں پر اپنا کنٹرول قائم کر رکھا ہے۔اس کو وزیراعظم عبداللہ الثنی کی قیادت میں مشرقی شہر بیضاء میں قائم حکومت کی حمایت حاصل ہے۔

واضح رہے کہ لیبیا کی ان دونوں متحارب حکومتوں نے گذشتہ ماہ اقوام متحدہ کی ثالثی میں جنگ بندی اور ایک متحدہ حکومت کے قیام سے اتفاق کیا تھا۔دونوں متوازی پارلیمانوں نے الگ سے بھی متحدہ حکومت کے قیام کے لیے ایک سمجھوتے پر دستخط کررکھے ہیں لیکن ابھی تک ان پر عمل درآمد کی نوبت آئی ہے اور نہ متحدہ قومی حکومت قائم ہوئی ہے۔