.

مالی: 'انصار دین' نے یو این اڈے پر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افریقی ملک مالی کے اسلام پسند مسلح گروپ 'انصار دین' کا کہنا ہے کہ اس نے اقوام متحدہ کے امن فوجیوں کے شمالی مالی میں موجود اڈے پر خودکش اور راکٹ حملہ کروایا ہے جس میں چھ امن فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔

انٹرنیٹ پر شدت پسند تنظیموں کی سرگرمی پر نظر رکھنے والے امریکی گروپ 'سائٹ' کے مطابق انصار دین نے ایک بیان میں اپنے ٹرک خودکش بمبار کا محمد عبداللہ بن حذیفہ الحسنی بتایا ہے جس کا تعلق موریطانیہ سے تھا۔

طوارق قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایاد اغ غالی کی سربراہی میں سرگرم انصار دین نے القاعدہ کی مقامی شاخ کے ہمراہ 2012ء میں محدود دورانیے کے لئے شمالی صحرا پر قبضہ کر لیا تھا اور یہ دونوں گروپ خطے میں شدت پسندی کو پھیلانے میں مصروف ہیں جو کہ اب مالی کا رخ کررہی ہے۔

ابھی تک اس بات کی وضاحت نہیں ہوسکی ہے کہ کیا انصار دین مالی کے فوجیوں پر گھات لگا کر حملہ کرنے میں بھی ملوث تھی جس میں تین فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔

انصار دین کے بیان میں بتایا گیا تھا "کیدال آپریشن صلیبی حملہ آوروں اور ان کی حمایت کرنے والوں کرنے والوں کے لئے پیغام ہے۔ اور یہ پیغام ہمارے پاس غیر ملکی فوجی بھیجنے کا اعلان کرنے والوں کے لئے بھی ہے، جیسے جرمن صدر جنہوں نے اپنے حالیہ دورے کے دوران اعلان کیا تھا۔"

جرمنی کے صدر یواخیم گائوک نے مالی کے دارالحکومت باماکو کا دورہ کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کی امن فوج کے مشن کے لئے 650 فوجی بھیجیں گے۔

اقوام متحدہ کی امن فوج کے علاوہ شدت پسندوں نے مغربی سیاحوں میں مقبول جگہوں کو بھی نشانہ بنایا ہے جس کے دوران ماہ جنوری میں 30 سیاح مارے گئے تھے۔ اس کے علاوہ مالی کی فوج کے چیک پوائنٹس کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے مطابق ہلاک ہونے والے تمام چھ امن فوجیوں کا تعلق ہمسایہ ملک گنی سے تھا۔

اسلام پسند جنگجوئوں کو 2013ء میں قصبات سے نکالنے والے فرانسیسی فوجی ابھی تک شمال مالی اور اس کے ہمسایہ ممالک میں ابھی تک سرگرم ہیں مگر شدت پسندوں کی جانب سے ان کو نقصان پہنچانا اتنا آسان نہیں ہے۔