اوپیک ممالک کا تیل کی پیداوار منجمد کرنے سے اتفاق
پیٹرول پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) میں شامل بڑی طاقتوں نے تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر موجودہ پیداواری سطح کو منجمد کرنے سے اتفاق کیا ہے۔
سعودی وزیر تیل علی النعیمی اور ان کے روسی ہم منصب الیگزینڈر نوواک نے قطری دارالحکومت دوحہ میں تیل کی پیداوار اور عالمی مارکیٹ میں اس کی قیمتوں کی صورت حال کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔وینزویلا کے وزیرتیل یولوجیو ڈیل پینو نے بھی ان کے ساتھ بات چیت میں شریک تھے۔انھوں نے بھی تیل کی پیداوار کو موجودہ سطح پر منجمد کرنے کی تجویز کی حمایت کی ہے۔
قطر اس سال اوپیک کا صدر ملک ہے اور اس نے تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں گذشتہ اٹھارہ ماہ سے مسلسل گررہی ہیں اور اس وقت گذشتہ ایک عشرے میں پہلی مرتبہ تیل کی فی بیرل قیمت تیس ڈالرز سے بھی کم ہوچکی ہے۔اب تنظیم کے رکن ممالک قیمتوں کے بجائے مارکیٹ میں اپنا حصہ برقرار رکھنے پر توجہ مرکوز کررہے ہیں۔
بارہ رکن ممالک پر مشتمل اوپیک نے نومبر 2014ء میں اپنے اجلاس میں تیل کی یومیہ پیداوار تین کروڑ بیرل برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔اس اقدام کو امریکا کی مہنگی لاگت کی حامل خام تیل کی پیدوار کو مارکیٹ سے باہر رکھنے کی کوشش قرار دیا گیا تھا۔اس فیصلے کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت نمایاں گرچکی ہے۔