امریکا : ٹیکساس یونی ورسٹی میں طلبہ کو کلاسوں میں اسلحہ رکھنے کی اجازت
امریکا کی جنوبی ریاست ٹیکساس کی یونی ورسٹی نے اپنے طلبہ کو اس بات کی اجازت دے دی ہے کہ وہ کلاس روم میں اپنے پاس آتشی اسلحہ رکھ سکتے ہیں۔ یونی ورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ ناپسندیدہ قدم انتہائی مجبوری کی حالت میں اٹھایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ریاست کے پارلیمان کی جانب سے منظور کیے جانے والے قانون میں یونی ورسٹی کیمپس میں اسلحہ رکھنے پر عائد پابندی اٹھالی گئی تھی۔
پابندی اٹھائے جانے کے فیصلے نے امریکا میں مقابلے کی فضا بھڑ کادی۔ بالخصوص ٹیکساس یونی ورسٹی میں جہاں 1966 میں امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ یونی ورسٹی کیمپس کے اندر فائرنگ کے ذریعے قتل وغارت کا واقعہ پیش آیا تھا۔
سرکاری جامعات کی کیمپس میں اسلحہ رکھنے پر پابندی اٹھانے کا قانون...امریکا کی متعدد جامعات میں فائرنگ کے واقعات میں لوگوں کی بڑی تعداد کے ہلاک ہونے کے بعد سامنے آیا۔
-
شام: اسپتال پر بمباری روس نے کی یا امریکا نے؟!
شامی حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے متضاد بیانات اور الزامات
مشرق وسطی -
امریکا : سپریم کورٹ کے جج کی وفات کے بعد سیاسی بحران
امریکی صدر باراک اوباما نے اعلان کیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے متوفی جج انٹونن سکیلیا ...
بين الاقوامى -
امریکا میں مسلمانوں کا داخلہ، جارج کلونی کیا کہتے ہیں؟
لگتا ایسا ہے کہ خوبرو امریکی اداکار جارج کلونی اپنے دورہ جرمنی کے دوران برلن فلم ...
ایڈیٹر کی پسند