سعودی اتحاد کا یمن میں فوجی آپریشن اختتام کے قریب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد کے ترجمان نے کہا ہے کہ یمن میں حوثی شیعہ باغیوں اور ان کے اتحادیوں کے خلاف بڑی فوجی کارروائیاں ختم ہونے کے قریب ہیں اور ان کے بعد اتحاد یمن میں استحکام کے لیے طویل المیعاد منصوبوں پر عمل پیرا ہو گا۔

بریگیڈیئر جنرل احمد العسیری نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ یمن میں بڑی فوجی کارروائیاں آخری مراحل میں ہیں۔ان کے بعد دوسرا مرحلہ تعمیرِنو کا ہوگا اور یہ جلد شروع کیا جائے گا۔

انھوں نے واضح کیا کہ ''سعودی عرب اور اس کی قیادت میں اتحاد یمن کی قانونی حکومت کا ساتھ دیں گے اور اس کو ملک میں استحکام کی بحالی کے قابل ہونے تک مدد دیں گے''۔

ادھر مآرب میں یمن کی مسلح افواج کے ڈپٹی کمانڈر علی محسن الاحمر نے کہا ہے کہ ان کی ٹیم عرب اتحاد کے ساتھ مل کر کام کرے گی اور وہ حوثی باغیوں کے ہاتھوں تباہ ہونے والے سرکاری اداروں کی تعمیرنو کرے گی۔

یمن کے تیسرے بڑے شہر تعز میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فورسز کے کنٹرول کے بعد حالات معمول پر آنا شروع ہوگئے ہیں اور وہاں خاندانوں کی واپسی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔شہر میں دکانیں اور بازار کھل گئے ہیں اور معمولاتِ زندگی بحال ہو رہے ہیں۔حوثی باغیوں نے اس شہر کا کئی ماہ تک محاصرہ کیے رکھا تھا اور اس دوران گولہ باری کرکے شہر کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں