.

امریکی صدر کی 88 برس بعد کیوبا آمد !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر باراک اوباما اتوار کی شب کیوبا پہنچ گئے. یہ کسی بھی امریکی صدر کا 88 برس بعد کیوبا کا پہلا دورہ ہے۔ اوباما کا یہ دورہ ہر لحاظ سے تاریخی حیثیت رکھتا ہے جس سے امریکا اور اس جزیرے کی کمیونسٹ حکومت کے درمیان تعلقات کے ایک نئے باب کی راہ ہموار ہو سکے گی۔ اس سے قبل سرد جنگ میں دونوں مخاصموں کے درمیان کئی دہائیوں تک عداوت اپنے زوروں پر رہی۔

باراک اوباما اپنے خصوصی طیارے میں جوزے مارٹی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پہنچے تو یہ ایک ایسا منظر تھا جس کے بارے میں کچھ عرصہ قبل سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ امریکی صدر اپنی اہلیہ میشیل کے ساتھ طیارے سے باہر آئے تو وہ اپنے ہاتھ میں چھتری تھامے ہوئے تھے کیوں کہ باہر تیز بارش ہو رہی تھی۔

اوباما کے 3 روزہ دورے میں ان کی بیوی اور دونوں بیٹیوں کے علاوہ امریکی کانگریس اور سینیٹ کے متعدد ارکان بھی ساتھ ہیں۔

اوباما کیوبا میں اپنے دورے کے آغاز پر ہوانا میں اپنے ملک کے سفارت خانے جائیں گے. یہ سفارت خانہ 50 برس بند رہنے کے بعد گزشتہ ماہ پھر سے کھولا گیا ہے۔ اس کے بعد اوباما اپنے اہل خانہ کے ساتھ شہر میں موجود مشہور تاریخی مقامات کا دورہ کریں گے۔

امریکی صدر اپنے کیوبی ہم منصب راؤل کاسترو سے پیر کے روز ان کے محل میں ملاقات کریں گے اور پھر اپنے اعزاز میں دیئے گئے خصوصی عشایئے میں شریک ہوں گے۔

​منگل کے روز اوباما کیوبا کے عوام سے خطاب کریں گے اور پھر بہت سی شہری تنظیموں کے نمائندوں سے ان کی ملاقات بھی کرائی جائے گی. اس کے بعد وہ کیوبا اور امریکی کلب ٹیم "ٹامپا بے ریز" کے درمیان بیس بال کے ایک نمائشی میچ دیکھنے جائیں گے اور پھر ہوانا شہر کا رخ کریں گے جہاں سے ارجنٹائن کے لیے روانہ ہو جائیں گے۔

گزشتہ ہفتے اپنے خطاب میں اس دورے پر تبصرہ کرتے ہوئے اوباما کا کہنا تھا کہ "میں شدت سے اس بات کا منتظر ہوں کہ تقریبا 90 سال بعد کیوبا کا دورہ کرنے والا امریکی صدر بن جاؤں اور وہ بھی اس حال میں کہ میرے ساتھ کوئی بحری جنگی جہاز نہ ہو"۔

واضح رہے کہ "کیلون کولج" کیوبا کا دورہ کرنے والے آخری امریکی صدر تھے. 1928ء میں اس دورے میں وہ ایک بحری جنگی جہاز پر سوار تھے۔

امریکی انتظامیہ نے دسمبر 2014 میں کیوبا کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور بہتری کا فیصلہ کیا، جس کے بعد اس نے کیوبا پر عائد پابندیوں کو کم کرنا شروع کیا۔

اس سلسلے میں امریکا نے کیوبا کا نام دہشت گردی کو سپورٹ کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکال دیا اور سول ایئر نیوی گیشن اور میرین نیوی گیشن کے علاوہ بینکوں اور تجارت کے شعبوں میں کیوبا پر عائد پابندیاں بھی کم کر دیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات گزشتہ برس بحال ہوگئے اور دونوں جانب سے سفارت خانوں کو پھر سے کھول دیا گیا۔ اس سے قبل 1959 میں کیوبا میں انقلاب کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات منقطع ہو گئے تھے۔