.

سعودی عرب،امریکا کی دہشت گردوں کے معاونین پر پابندیاں

القاعدہ ،طالبان اور لشکر طیبہ سے وابستہ چارافراد اور دو تنظیموں کے اثاثے منجمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب اور امریکا کے محکمہ خزانہ نے القاعدہ ،طالبان اور لشکر طیبہ کی مالی معاونت اور سے وابستہ چار افراد اور دو تنظیموں پر پابندیاں عاید کردی ہیں۔

محکمہ خزانہ کے انڈر سیکریٹری برائے دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس ایڈم جے زوبن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''یہ تینوں گروپ امریکیوں اور جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں ہمارے اتحادیوں کے خلاف تشدد کی ایک طویل تاریخ رکھتے ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''اس اقدام سے امریکا اور سعودی عرب کے دہشت گردی کی حمایت ومعاونت کرنے والوں کو مشترکہ طور پر ہدف بنانے کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے''۔امریکی محکمہ خزانہ نے اپنے انسداد دہشت گردی حکام کے ذریعے اور سعودی عرب نے اپنے قانون کے تحت دہشت گردی کے جرائم اور مالی معاونت پر پابندیاں عاید کی ہیں۔

محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ اسکاٹ لینڈ میں پیدا ہونے والے پاکستانی شہری جیمز الیگزینڈر میکلنٹاک نے ان تین گروپوں کو مبینہ طور پر مالی امداد مہیا کی تھی۔وہ پاکستان میں قائم الرحمہ ویلفئیر آرگنائزیشن کے صدر ،چیف ایگزیکٹو اور چئیرمین ہیں۔ان کی اس تنظیم پر بھی پابندیاں عاید کردی گئی ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ نے میکلنٹاک پر الزام عاید کیا ہے کہ ان کی تنظیم اور وہ بہ ذات خود القاعدہ ،طالبان ،لشکر طیبہ اور دوسرے گروپوں کو یتیمیوں کی امداد کے نام پر مالی امداد مہیا کرتے رہے تھے۔

برطانوی اخبار انڈی پینڈینٹ نے 2004ء کے ایک پروفائل میں اس اسکاٹش کو''تارتان طالبان''قراردیا تھا اور اس رپورٹ میں ان کے اسکاٹ لینڈ سے افغانستان سفر کی تفصیل لکھی تھی۔تب وہ ایک طالب علم تھے اور افغانستان آکر وہ سخت گیر ہوگئے تھے۔رپورٹ کے مطابق انھیں 2001ء میں افغانستان میں گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں رہا کردیا گیا تھا۔سنہ 2009ء میں پاکستان میں ان کی دوبارہ گرفتاری عمل میں آئی تھی۔

مزید برآں محکمہ خزانہ نے مدرسہ جامعہ اثریہ اور اس کے مہتمم عبدالعزیز نورستانی پر بھی پابندیاں عاید کردی ہیں اور ان کے نام بلیک لسٹ کردیے ہیں۔ان دونوں پر لشکرطیبہ کو امداد مہیا کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ مدرسہ اثریہ کو بیرون ملک سے پاکستان رقوم لانے کے لیے استعمال کیا جارہا تھا۔عبدالعزیز نورستانی نے چندہ جمع کرنے کے لیے خلیجی ممالک کا بھی دورہ کیا تھا۔

ان کے علاوہ لشکر طیبہ کے ایک عہدے دار نوید قمر اور سعودی عرب میں مقیم اسی گروپ کے ایک رکن محمد اعجاز سفارش پر بھی لشکر طیبہ کی مالی معاونت کے الزام میں پابندی عاید کی ہیں۔

سعودی عرب نے ان شخصیات اور تنظیموں کو دہشت گردی سے متعلق قانون اور شاہی فرمان اے 44 کے تحت بلیک لسٹ کردیا ہے اور اس اقدام کے تحت ان کی سعودی عرب میں کسی قسم جائیداد اور اثاثے منجمد کر لیے ہیں اور سعودی شہری بھی ان کے ساتھ کسی قسم کا کوئی کاروبار نہیں کرسکیں گے۔