حزب اللہ سے معاملات، لبنانی بینکوں پر امریکی پابندیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لبنانی تنظیم حزب اللہ کے ساتھ معاملات کرنے والے یا اس کے لیے منی لانڈرنگ کی کارروائیوں میں ملوث بینکوں اور مالیاتی اداروں کو دی گئی امریکی مہلت ختم ہونے کا وقت قریب آ رہا ہے۔ اس سلسلے میں رواں ماہ (اپریل) کے اواخر میں امریکی پابندیوں کے قانون پر عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔

امریکی پابندیوں سے متعلق قانون کا مکمل طور جواب دینے کے لیے لبنانی بینک بھرپور طریقے سے سرگرم ہو گئے۔ اس حوالے سے لبنان کے مرکزی بینک کے تعاون سے ایک بڑا آڈٹ ورکشاپ منعقد کیا گیا۔ ورکشاپ کے دوران صارفین اور ایجنٹس کے کھاتوں کی انتہائی باریک بینی کے ساتھ جانچ کی گئی اور کسی ایک بھی ڈپازٹ یا اکاؤنٹ کو آڈٹ کیے بغیر نہ چھوڑا گیا۔

بینکوں کی کاوشیں یہاں تک ہی محدود نہیں رہیں، لبنانی بینکاروں اور ارکان پارلیمنٹ پر مشتمل ایک وفد نے واشنگٹن کے کئی دورے کیے اور لبنانی مالیاتی اداروں کی جانب سے بین الاقوامی معیارات اور قوانین کی پابندی کیے جانے کی تصدیق بھی کی۔

امریکی کانگریس کے فیصلے میں حزب اللہ کے زیرانتظام المنار چینل کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اس دوران سیٹلائٹ آپریٹرز کے ساتھ چینل کے معاملات منقطع کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ چینل کو حزب اللہ کا ترجمان سمجھا جاتا ہے جسے واشنگٹن نے دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔

کانگریس کو انتظار ہے کہ صدر باراک اوباما کی انتظامیہ اسے وہ رپورٹیں پیش کرے جن میں منشیات کی اسمگلنگ اور سرحد کے راستے حزب اللہ کی دیگر مجرمانہ سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ان ممالک کو بھی شمار کیا گیا ہے جو حزب اللہ کو سپورٹ کرتے ہیں یا جہاں تنظیم کے اہم لاجسٹک مراکز موجود ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں