.

یونان سے بے دخل سیکڑوں تارکینِ وطن کی ترکی واپسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یونان سے بے دخل کیے گئے سیکڑوں تارکینِ وطن سمندری راستے سے ترکی واپس پہنچا دیے گئے ہیں۔غیر ملکی خبررساں ایجنسیوں کی اطلاعات کے مطابق سیکڑوں تارکین وطن کو سوموار کی صبح پناہ گزین کیمپوں سے بسوں کے ذریعے یونان کی بندرگاہوں لیسبوس اور چیوس پہنچایا گیا تھا۔

دوپہر کے وقت انھیں ایک کشتی پر بٹھا کر ترکی کی بندرگاہ دکیلی کی جانب روانہ کردیا گیا۔ترکی اور یورپی یونین کے درمیان غیر قانونی تارکین وطن اور مہاجرین کی یونان آمد کو روکنے کے لیے طے شدہ سمجھوتے کے تحت ان غیر ملکیوں کی پہلی مرتبہ یونان سے واپسی ہوئی ہے۔

اس سمجھوتے کے تحت آج سوموار سے بحیرہ ایجیئن میں یونان کے جزیرے لیسبوس سے کشتیوں اور چھوٹے جہازوں کے ذریعے غیر قانونی تارکین وطن کو ترکی کی دوبندرگاہوں دکیلی اور چسم کی جانب بھیجنے کا آغاز کیا گیا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس طرح غیر قانونی تارکین وطن کو بے دخل کرنے کے اقدام پر کڑی تنقید کی ہے اور اس کو غیر اخلاقی قرار دیا ہے۔

قبل ازیں ترک وزیر داخلہ افقان علاء نے کہا کہ ان کا ملک آج پہلے روز پانچ سو تارکین وطن کو قبول کرنے کو تیار ہے اور یونانی حکام نے انھیں واپس بھیجے جانے والے چار سو تارکین وطن کی فہرست فراہم کی ہے۔تاہم ناموں میں ردوبدل ہوسکتا ہے۔

یورپی یونین نے غیر قانونی تارکین وطن کی آمد کو روکنے کے لیے گذشتہ ماہ برسلز میں ترکی کے ساتھ ایک سمجھوتے پر دستخط کیے تھے۔یورپی ممالک میں گذشتہ ایک سال کے دوران دس لاکھ سے زیادہ مہاجرین اور غیر قانونی تارکین ترکی سے پُرخطر اور دشوار گذار بحری راستے کے ذریعے یونان گئے تھے۔اس طرح یورپی ممالک کو دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد تارکین وطن کے ایک بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اب سمجھوتے کے تحت 20 مارچ کے بعد ترکی سے سمندری سفر کے ذریعے یونان جانے والے تمام ''بے ضابطہ تارکین وطن'' کو لوٹا دیا جائے گا اور ہرکیس کا انفرادی طور پر جائزہ لیا جائے گا۔سمجھوتے کے تحت یونان سے ترکی واپس بھیجے جانے والے ہر شامی مہاجر کے بدلے میں ترکی میں مقیم رجسٹرڈ شامی مہاجرین کو یورپی یونین کے رکن ممالک میں آباد کیا جائے گا۔اس طرح کل بہتر ہزار افراد کی واپسی اور یورپ میں آباد کاری کی جائے گی۔