.

روس نے آرمن اور کردوں کو ترکی کے خلاف استعمال کیا : ایرانی سفارت کار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جمہوریہ آذربائیجان میں ایران کے سابق سفیر کا کہنا ہے کہ روس نے شامی آرمینیائی باشندوں اور ترک کردستان لیبر پارٹی کے ارکان کو "نگورنو کاراباخ" کے علاقے میں بسایا جو کہ آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان متنازع علاقہ ہے، روس کے اس اقدام کا مقصد ان لوگوں کو ترکی کے خلاف استعمال کرنا تھا۔ ایرانی سابق سفیر نے یہ بات ایرانی روزنامے "ارمان" کے ساتھ انٹرویو میں بتائی۔ یہ اخبار ایرانی تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سربراہ اکبر ہاشمی رفسنجانی کے قریب سمجھا جاتا ہے۔

سابق سفیر سلیمانی نے باور کرایا کہ انقرہ کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کے بعد روس آرمینیائی باشندوں کو ترکی کے خلاف استعمال کررہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "روس نے آرمینیائیوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا تاکہ آذربائیجان کو مغربی دنیا کے قریب آنے سے روکا جاسکے اور جنوبی قفقاز میں ترکی کے رسوخ کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جاسکیں"۔

ایرانی سفارت کار کے مطابق "روس نے آذربائیجان کی اراضی ہتھیانے کے لیے آرمینیا کی مدد کی"۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ "سوویت یونین کے ٹوٹ جانے کے بعد روس ہمیشہ اپنے اطراف میں پیدا ہونے والے بحرانوں میں مداخلت کرتا تھا تاکہ سرحدوں کے پار اپنی پالیسی کا پھر سے آغاز کرے۔ تاہم ان منفی مداخلتوں کے نتیجے میں اس کی معیشت پر بھاری بوجھ پڑا"۔

ایرانی سابق سفیر نے کہا کہ ماسکو "وہ طاقت نہیں رکھتا جس سے ترکی پراثر ہو اور دائمی بحران پیدا کرسکے"۔

اس بیان کے برعکس روسی صدر ولادیمر پوتین ترکی پر الزام عائد کرتے ہیں کہ ترکی نے نگورنو کاراباخ میں جھڑپوں کا آغاز کیا تاکہ "شام میں اپنی غلطیوں کا ازالہ کرسکے"۔

گزشتہ پورے ہفتے آذربائیجان کی فوج اور نگورنو کاراباخ کے علاحدگی پسند حکام کی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں جاری رہیں۔ منگل کے روز ہونے والی فائر بندی تک کم از کم 75 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھوچکے تھے۔

یہ جھڑپیں اس جنگ کے ساتھ وابستہ ہیں جس کا آغاز اس وقت ہوا جب آرمینیا کے نزدیک سمجھی جانے والی علاحدگی پسند فورسز نے نگورنو کاراباخ کے علاقے پر قبضہ کرلیا تھا جہاں آرمینیائی باشندوں کی اکثریت سکونت پذیر ہے۔ اس جنگ میں 30 ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے جب کہ لاکھوں افراد پناہ گزین بن گئے جن میں اکثریت کا تعلق آذربائیجان سے تھا۔

حالیہ جھڑپوں کے شروع ہونے کے وقت سے انقرہ حکومت نے ترک زبان بولنے والے اپنے مسلمان حلیف ملک آذربائیجان کی حمایت میں اپنے مواقف اور بیانات میں اضافہ کردیا۔


ترکی کا کہنا ہے کہ روس لڑائی میں ایک فریق ہے

ادھر ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے بدھ کے روز روس پر الزام عائد کیا کہ وہ آذربائیجان اور نگورنو کاراباخ کے علاحدگی پسند حکام کے درمیان لڑائی میں آرمینیا کے ساتھ فریق بن کر داخل ہوا ہے۔ انقرہ میں مقامی ذمہ داران سے خطاب کرتے ہوئے ایردوآن کا کہنا تھا کہ "میں امید رکھتا ہوں کہ آرمینیا بھی آذربائیجان کے ان اقدامات کے نقش قدم پر چلے گا جو اس نے لڑائی کو روکنے کے لیے کیے ہیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "روس کا کہنا ہے کہ ترکی ایک فریق بن کر داخل ہوا ہے، تاہم اگر ہم غور کریں کہ فریق بن کر کون داخل ہورہا ہے تو واضح ہوجائے گا کہ روس زیادہ اہم ہے"۔

ایردوآن کا کہنا تھا کہ "روس کا فریق بن کر داخل ہونا پسند ہے۔ اس نے یوکرین اور جارجیا میں ایسا کیا اور آج شام میں بھی وہ ہی کررہا ہے"۔

ترکی کے وزیراعظم احمد داؤد اوگلو نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک "دنیا کے خاتمے تک" آذربائیجان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔