سویڈن کا مسلمان وزیر صیہونیوں کی نفرت انگیز مہم کا شکار!

یہودی دشمنی کے الزامات کے بعد محمد قبلان کابینہ سے استعفیٰ دینے پرمجبور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

#سویڈن کی کابینہ میں شامل ترک نژاد ایک مسلمان وزیر #محمد_قبلان نے یہودی لابی کی مسلسل نفرت انگیز مہم کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سویڈن میں ہاؤسنگ کے وزیر محمد قبلان کے خلاف کچھ عرصے سے ملک کےسیاسی اور ابلاغی حلقوں میں ’یہود دشمنی‘ کےالزامات کی مکروہ مہم چلائی جا رہی ہے جس میں ان کے ایک سابقہ بیان کو بنیاد بنا کرانہیں مورد الزم ٹھہرانے کی مذموم کوشش کی گئی ہے۔

ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ترک نژاد وزیر محمد قبلان نے ایک بیان میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کو نازیوں کے کیمپوں میں ہونے والے قتل عام کے مماثل قرار دیا تھا۔

محمد قبلان کے خلاف مہم چلانے والوں میں اسٹاک ہوم میں متعین اسرائیلی سفیر اور ملک میں سرگرم یہودی لابی پیش پیش رہے۔

سویڈن کے وزیراعظم اسٹیفن لوفین نے سوموار کے روز جاری کردہ ایک بیان میں ہاؤسنگ کے وزیر محمد قبلان کے استعفے کی تصدیق کی اور بتایا کہ ان کی جگہ ’’انوائرمنٹ پارٹی‘‘ کے ایک دوسرے رکن ببیر بولونڈ کو وزارت ہاؤسنگ کا قلم دان سونپا گیا ہے۔ خیال رہے کہ محمد قبلان کا تعلق بھی اسی جماعت سے ہے۔

حال ہی میں اخبار’’سفنکسا داغبلادت‘‘ کی ویب سائیٹ پر فوٹیج نشر کی گئی تھی جس میں سنہ 2009ء میں محمد قبلان کے صومالیہ کے ایک ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو کے کچھ اقتباسات شامل تھے۔ فوٹیج میں محمد قبلان کو فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کا تذکرہ کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل جو کچھ فلسطینیوں کے ساتھ کررہا ہے دوسری جنگ عظیم میں یہی کچھ جرمنی میں یہودیوں کے ساتھ نازی فوج کرتی رہی ہے۔

اخباری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2009ء میں محمد قبلان نے غزہ کی پٹی کا دورہ کیا جہاں ان کی ایک مقامی مذہبی رہ نما کے ساتھ ملاقات کی تصویر بھی شایع ہوئی تھی۔ اس ملاقات میں محمد قبلان نے #یورپ میں اسلام فوبیا اور اس سے نمٹنے پر بات کی تھی۔

سویڈش اخبار نے ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت محمد قبلان کے خلاف مہم چلائی۔ یہاں تک کے ان کے استعفے کے مطالبے کے لیے سویڈن کی دائیں بازو کی سخت گیر جماعتوں کے رہ نماؤں کے انٹرویو شائع کیے جن میں محمد قبلان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ایسے موقع پر اسرائیلی سفیر کا خاموش رہنا کیسے ممکن ہوسکتا ہے۔ چنانچہ اسٹاک ہوم میں متعین اسرائیلی سفیر آئزک باخمان کا کہنا تھا کہ سویڈن کا مسلمان وزیر یہودی دشمنی میں بہت آگے جا چکا ہے۔

اسرائیلی سفیر کا کہنا ہے کہ #فلسطین میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کو جرمنی کے نازیوں سے تشبیہ دینا غیرمنطقی ہے۔ یہودیوں کے خلاف نفرت پھیلانے کا مخالف تنہا میں نہیں ہوں بلکہ پورے یورپ میں یہود دشمنی کو جرم سمجھا جاتا ہے۔

محمد قبلان کے فلسطینیوں کی حمایت پر مبنی بیان پر سویڈن کی خاتون وزیر خارجہ مارگوٹ فالسٹروم نے بھی سخت رد عمل کا اظہار کیا اور کیا کہ قبلان کا بیان خوفناک ہے اور میں اسے پوری شدت سے مسترد کرتی ہوں۔

وزارت سے مستعفی ہونے والے مسلمان رہ نما محمد قبلان نے بھی ایک نیوز کانفرنس کے دوران اپنا موقف واضح کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میں انتہا پسندی کی تمام شکلوں کو مسترد کرتا ہوں۔ انوائرمنٹ پارٹی اسلامی اقدار کی نمائندگی کرتی ہے جو تنوع اور عالمی یکجہتی پر یقین رکھتے ہوئے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہے۔ یہی میرے بھی اصول اور اقدار ہیں اور مجھے ان پر پورا بھروسہ ہے."

خیال رہے کہ پچھلے سال سویڈن اور #اسرائیل کے درمیان سفارتی کشیدگی بھی پیدا ہوئی تھی تاہم اس واقعے نے دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے مزید قریب کردیا ہے۔ گذشتہ برس وزیر خارجہ مارگوٹ فالسٹروم نے فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں خلاف قانون قرار دیتے ہوئے فلسطینیوں کے قتل کو ماورائے عدالت قتل قرار دیا تو اسرائیل نے اس پر سخت احتجاج کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں