.

ایرانی فوج کی شام میں براہ راست مداخلت کی تردید

پاسداران انقلاب کی نگرانی میں صرف رضاکار شام میں لڑرہے ہیں: فوجی سربراہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی مسلح افواج کے سربراہ نے شام میں ریگولر فوج کی براہ راست موجودگی سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس نے 1979ء کے انقلاب کے بعد پہلی مرتبہ ملک سے باہر کارروائیوں کے لیے رضاکار بھیجے ہیں اور وہ پاسداران انقلاب کی نگرانی میں جنگ زدہ ملک میں کام کررہے ہیں۔

ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی نے بدھ کو مسلح افواج کے سربراہ آیت اللہ صالحی کا یہ بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ''بعض رضاکار متعلقہ تنظیم کی نگرانی میں شام بھیجے گئے ہیں۔ان میں بریگیڈ 65 فورسز سے تعلق رکھنے والے فوجی بھی ہوسکتے ہیں''۔انھوں نے کہا کہ ''آرمی شام کو عسکری مشاورت مہیا کرنے کی ذمے دار نہیں ہے''۔

ایران نے اسی ماہ آرمی کے بریگیڈ 65 سے تعلق رکھنے والے کمانڈوز کو مشیر کے طور پر شام بھیجنے کا اعلان کیا تھا جس سے اس شُبے کو تقویت ملی تھی کہ وہ اپنی ریگولر فوج کے علاوہ پاسداران انقلاب سے تعلق رکھنے والی فورسز کو صدر بشار الاسد کی مدد کے لیے استعمال کررہا ہے۔اس اعلان کے فوری بعد تسنیم نیوز ایجنسی نے 11 اپریل کو شام میں چار ایرانی فوجیوں کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی۔

ایران صدر بشارالاسد کا اہم پشتی بان ملک ہے اور وہ باغی گروپوں اور سخت گیر داعش کے جنگجوؤں کے خلاف انھیں فوجی اور اقتصادی امداد مہیا کررہا ہے۔پاسداران انقلاب کی بیرون ملک کارروائیوں کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی مبینہ طور پر شام میں مختلف محاذوں پر باغی گروپوں کے خلاف کارروائیوں میں شامی فورسز کی نگرانی کررہے ہیں۔

جنرل قاسم سلیمانی نے گذشتہ سال جولائی میں ماسکو کا دورہ کیا تھا اور انھوں نے ہی روس کی شام میں فوجی مداخلت کے لیے منصوبہ وضع کرنے میں مدد کی تھی اور شامی صدر بشارالاسد کی حمایت میں ایرانی ،روسی اتحاد تشکیل پایا تھا۔

سکیورٹی ذرائع کے مطانق قاسم سلیمانی گذشتہ ہفتے بھی ماسکو گئے تھے اوراس دورے کا مقصد شام پر باہمی تعاون کو مربوط اور مضبوط بنانے کے لیے روسی حکام سے بات چیت کرنا تھا۔انھوں نے مبینہ طور پر باغیوں کے زیر قبضہ شامی علاقوں کی واپسی کے لیے روس اور ایران کی مشترکہ حکمت عملی وضع کرنے کے لیے بھی بات چیت کی تھی۔

واضح رہے کہ ایران کی دو مسلح افواج ہیں۔ایک ریگولر آرمی جو قومی دفاعی فوج کے طور پر خدمات انجام دیتی ہے اور دوسری سپاہ پاسداران انقلاب۔یہ ایلیٹ فورس ایران میں 1979ء کےانقلاب کے بعد تشکیل دی گئی تھی اور اس کی ذمے داری اسلامی جمہوریہ کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے نمٹنا ہے۔