.

عالمی طاقتوں کے ساتھ ایرانی نیوکلیئر معاہدہ شدید خطرے میں !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اور (5+1) ممالک کے درمیان دستخط کیا گیا نیوکلیئر معاہدہ، امریکا کے خلاف ایرانی سخت گیر رجحان کی روشنی میں ختم ہونے ختم ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔ بالخصوص ایرانی مرشد اعلیٰ علی خامنہ ای کا گزشتہ روز کا بیان جس میں ان کا کہنا تھا کہ "ایران پر سے پابندیاں صرف کاغذ کی حد تک اٹھائی گئیں ہیں"۔

اسی پیرائے میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر علی لاریجانی نے امریکا کو نیوکلیئر معاہدے منجمد کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ "ایران کی جانب سے امریکا کے حوالے سے مزید سخت مواقف سامنے آئیں گے"۔

قم شہر میں جمعرات کے روز ایرانی مزدوروں سے خطاب کے دوران لاریجانی نے باور کرایا کہ "ایرانی تیل کی فروخت کی کارروائیوں اور غیرملکی بینکوں کے ساتھ تجارتی تبادلے کے حوالے سے ابھی تک پابندیاں عائد ہیں اور یہ سب اس پالیسی کا نتیجہ ہے جس پر امریکا عمل پیرا ہے"۔

لاریجانی کے مطابق"ہمیں بخوبی علم تھا کہ ایران کے خلاف امریکا کے شیطانی مواقف نیوکلیئر معاہدہ طے پانے کے وقت بھی نہیں رکیں گے تاہم ان مواقف کا جاری رہنا ہمیں ان (امریکیوں) کے سامنے کمزور حیثیت سے کھڑا نہیں رہنے دے گا"۔

ایرانی مرشد اعلیٰ نے پابندیوں کے نہ اٹھائے جانے کو تنقید کا نشانہ بنایا اور امریکی عدلیہ کے اس فیصلے پر کڑی نکتہ چینی کی جس میں دہشت گرد حملوں کی سپورٹ میں ایران کے ملوث ہونے پر منجمد ایرانی مالی اثاثوں میں سے دو ارب ڈالر روک لینے کا حکم جاری کیا گیا۔

خامنہ ای کے مطابق "ان کا کاغذ کی حد تک یہ کہنا ہے کہ غیرملکی بینک ایران کے ساتھ معاملات کرسکتے ہیں تاہم درحقیقت وہ ایران سے متعلق خوف پھیلا رہے ہیں تاکہ اس کے ساتھ تعلقات کے قیام کو روکا جاسکے"۔

ادھر ایرانی صدر حسن روحانی نے بدھ کے روز امریکا میں منجمد ایرانی مالی اثاثوں میں سے دو ارب ڈالر روکے جانے کے امریکی عدلیہ کے فیصلے پر تنقید کی۔ روحانی نے اس فیصلے کو "کھلی چوری اور امریکی عدلیہ کے لیے موجب عار ہے"۔

دوسری جانب تہران میں نماز جمعہ کے خطیب اور سخت گیر مذہبی شخصیت احمد خاتمی کا کہنا ہے کہ ایران کی رقوم میں سے دو ارب ڈالر ضبط کرنے سے متعلق امریکی سپریم کورٹ کا فیصلہ "منشوروں اور کنوینشوں کے توڑے جانے کے مترادف ہے"۔

خاتمی نے کہا کہ ایرانی ذمہ داران ایرانی عوام کے مفاد میں نیوکلیئر مذاکرات میں آگے بڑھے تاہم امریکا عہد شکنی کررہا ہے اور جیسا کہ مرشد اعلیٰ کا کہنا ہے کہ یہ لوگ (امریکی) پابندی کے ختم کیے جانے کو محض کاغذ پر تحریر کررہے ہیں جب کہ یہ ایران کے ساتھ تجارتی تبادلے کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کررہے ہیں"۔

نیوز ایجنسی "تسنيم" کے مطابق خاتمی نے امریکیوں کے حوالے سے صدر روحانی کے مواقف کو سراہا جن میں انہوں نے امریکا کو خبردار کیا کہ "ایران کوئی تر نوالہ نہیں جس کے بارے میں امریکیوں کا خیال ہے کہ وہ اسے نگل لیں گے"۔