نائن الیون حملوں میں سعودی کردار کا کوئی ثبوت نہیں: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

امریکی حکومت نے ایک بار پھر وضاحت کے ساتھ باور کرایا ہے کہ 11 ستمبر 2001ء کو امریکا میں ہونے والی دہشت گردی میں سعودی عرب کا کوئی کردار نہیں تھا۔ وائیٹ ہاؤس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایوان نمائندگان کا ایک گروپ نائن الیون کے کچھ متاثرین کے ساتھ مل کر سعودی عرب کو نائن الیون حملوں میں الجھانے کے لیے ہرجانوں کا دعویٰ کرنے کی تیاری کررہا ہے مگر ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کہ سعودی عرب کے خلاف کانگریس میں کوئی بل پیش ہو اور صدر براک اوباما اس پر دستخط کریں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق وائیٹ ہاؤس کے ترجمان جاش ارنسٹ نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس بات کے قوی خدشات موجود ہیں کہ ایوان نمائندگان میں سعودی عرب کو نائن الیون حملوں میں قصور وار قرار دینے کے لیے کسی بل پر اتفاق کیا جائے گا مگر ہم یہ بات بالیقین کہتے ہیں کہ نائن الیون کےحملوں میں سعودی عرب کے کردار سے متعلق ہمارے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ انہی خدشات کے پیش نظر ایک سے زاید بار ہم نے اس امرکی وضاحت کی ہے کہ صدر براک اوباما ایسے کسی بھی بل پر دستخط نہیں کریں گے۔

خیال رہے کہ امریکی کانگریس کے ایوان نمائندگان میں پچھلے منگل کو ایک مسودہ قانون پیش کیا گیا تھا جس میں نائن الیون کے متاثرین کی جانب سے سعودی عرب پر ہرجانوں کی ادائیگی کا مطالبہ کیا گیا ہے تاہم اس متنازع بل پروائیٹ ہاؤس اور کانگریس کے درمیان ایک نئی کشمکش شروع ہوگئی ہے۔

’قانون انصاف برائے سرپرستان دہشت گردی‘ کے عنوان سے پیش کردہ بل پر ایوان نمائندگان میں ابتدائی رائے شماری بھی کی گئی۔ ایوان کی جوڈیشل کمیٹی کے معاون کا کہنا ہے کہ جلد ہی اس بل کو حتمی رائے شماری کے لیے ایوان میں پیش کیا جائے گا۔ مستقبل قریب میں اس بل پر بحث ہوگی اور اس کے بعد رائے شماری کی جائے گی۔

امریکی کانگریس میں سعودی عرب کے خلاف جاری ’لابنگ‘ کے رد عمل میں سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر نے واضح موقف اختیار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے متنازع قانونی بل سعودی عرب کا اعتراض عالمی قوانین کے بنیادی اصولوں کے عین مطابق ہے۔ امریکی کانگریس میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ خود مختاری اور تحفظ کے اصولوں کی نفی ہے اور اس طرح پوری دنیا میں جنگ کا قانون رائج ہوجائے گا۔

وائیٹ ہاؤس کے ترجمان نے بھی سعودی وزیرخارجہ کے بیان کی تائید کی اور کہا ہے کہ ایوان نمائندگان میں پیش کردہ بل تحفظ کے عالمی اصول کو یکسر تبدیل کردے گا۔ اب بھی صدر مملکت کو اس بل کے حوالے سے سخت خدشات موجود ہیں کیونکہ اس طرح کے قوانین کی منظوری سے دنیا بھرمیں امریکا اپنا عدالتی موقف کمزور ہوجائے گا۔

جاش ارنسٹ کا کہنا تھا کہ گیارہ ستمبر 2001ء کو امریکا میں ہونے والی دہشت گردی کی تحقیقات میں سعودی عرب کے کردار پرایک خود مختار کمیشن نے تحقیقات کی ہیں مگر سعودی عرب کے ان حملوں میں ملوث ہونے کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا ہے۔

ادھر امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان جان کیربی نے بھی ایوان نمائندگان میں سعودی عرب کو نائن الیون کے واقعات میں الجھانےکی کوششوں کو مسترد کردیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر لڑنے والے ملکوں میں شامل ہے اور ریاض نے امریکا کے ساتھ مل کر عالمی دہشت گردی کے خلاف کئی مہمات میں براہ راست حصہ لیا ہے۔ جان کیربی کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور امریکا کے درمیان دو طرفہ تعلقات مضبوط باہمی اعتماد کے رشتے سے بندھے ہوئے ہیں۔ شام کے بحران اور دیگر علاقائی تنازعات کےحل کے سلسلے میں امریکا نے سعودی عرب کے تجربات سے بھرپور استفادہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم سعودی عرب کے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مثبت کردار کا برملا اعتراف کرتے ہیں۔ ایوان نمائندگان میں قانون سازی ہمیں سعودی عرب کے ساتھ تعاون اور تعلقات مضبوط بنانے سے نہیں روک سکتی اور نہ ہی اس سے دونوں ملکوں کی دہشت گردی کے خلاف جاری مشترکہ جنگ متاثر ہوگی۔

خیال رہے کہ امریکی ایوان نمائندگان میں پیش کردہ قانون انصاف برائے سرپرستان دہشت گردی منظوری کے بعد کانگریس کا حصہ بن جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں حکومتوں اور ملکوں کو حاصل خود مختاری اور تحفظ ختم ہوجائے گا۔ اس کے بعد امریکا میں ہونے والی دہشت گردی کے کسی بھی واقعے میں متاثرہ افراد کسی دوسرے ملک یا حکومت کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ کرسکیں گے۔

اس قانون کا دوسرا رخ خود امریکا کے خلاف ہے کیونکہ اس کی منظوری کے بعد دہشت گردی سے متاثرہ افراد امریکی حکومت کے خلاف بھی عدالتوں میں جاسکتے ہیں۔امریکا میں دہشت گردوں کے سرپرستوں کے خلاف قانونی چارہ سے متعلق اس نئے قانون پر بڑے پیمانے پر لے دے ہو رہی ہے۔ کانگریس بھی اس طرح کے متنازع قوانین کے حوالے سے دو گروپوں میں منقسم ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں