.

مرغ کی بانگ سے کوڑے، جیل اور جرمانہ کی سزاء

پڑوسی کے مرغ سے تنگ سعودی شہری عدالت جا پہنچا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گھروں میں مرغیاں اور دیگر پالتو جانور رکھنے کا رحجان تو عام ہے مگر سعودی عرب کے قانون کے تحت اگر آپ کا پڑوسی آپ کے پالتو جانوروں کی وجہ سے پریشان ہوتو آپ گھر میں جانور نہیں پال سکتے۔ اگر مرغ کی بانگ سے پڑوسیوں کے آرام و سکون میں خلل پڑے تو مرغ کے مالک کو کوڑوں ، جیل اور جرمانوں کی سزا ہوسکتی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کی الاحساء گورنری کی الھفوف بلدیہ میں ایک شہری نے اپنے پڑوسی کے گھر میں رکھے مرغ کے بارے میں شکایت کی ہے اور کہا ہے کہ مرغ کی بانگ سے نہ صرف اس کے بچے بلکہ دیگر پڑوسی بھی پریشانی اور بے سکونی کا سامنا کرتے ہیں۔ الاحساء میں یہ اپنی نوعیت کا منفرد کیس ہے۔

ذرائع کےمطابق حکومت نے معاملہ رفع دفع کرنے کے لیے فریقین میں مصالحت کی کوشش کی ہے تاہم اگر مرغ کی بانگ پڑوسیوں کو مسلسل مضطرب رکھے تو اس کے مالک کو سزا بھی ہوسکتی ہے۔

ایک مقامی قانون دان مشعل العسکر نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عموما اس نوعیت کے مسائل کو شرعی اور ملکیتی احکام کی روشنی میں نمٹایا جاتا ہے۔ اگر کسی شخص کے گھرمیں موجود پالتو جانوروں سے دوسرے انسانوں کے آرام و سکون میں خلل آئے تو ان جانوروں کے مالک کو کوڑے، جیل اور جرمانوں جیسی سزائیں بھی دی جاسکتی ہیں۔

معسکر نے بتایا کہ گھر انسانوں کے رہنے کی جگہ ہوتے ہیں، جہاں مرغ اور دوسرے جانوروں کو پالنا ویسے ہی خلاف قانون ہے۔ یہ قانون ’نہ نقصان اٹھاؤ اور نہ کسی کو پہنچاؤ‘ کے اصول کے تحت وضع کیا گیا ہے۔