.

روسی اہداف پر داعش کا حملہ.. ماسکو کی تردید اور تصاویر کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایسے وقت میں جب کہ ماسکو حکومت نے شام میں داعش کے حملے میں روسی ہیلی کاپٹروں اور فوجی گاڑیوں کے تباہ ہونے کی خبروں کی تردید کی ہے، اس طرح کی تصاویر منظرعام پر آئی ہیں جن میں فوجی ہیلی کاپٹروں اور دیگر سازوسامان کو پہنچا نقصان نظر آرہا ہے۔ اس کے بارے میں خیال ہے کہ یہ شام کے دو شہروں حمص اور تدمر کے درمیان روسی آلات ہیں۔

برطانوی اخبار "دی ٹیلی گراف" کے مطابق روس کے درجنوں فوجی ہیلی کاپٹر اور فوجی بسیں جن کو کچھ عرصہ قبل شام پہنچایا گیا تھا، داعش تنظیم کے ایک بڑے حملے میں تباہی کا نشانہ بن گئے۔ اس حوالے سے امریکی انٹیلجنس ریسرچ کے مرکز "اسٹریٹفور" کی ویب سائٹ پر جاری فضائی تصاویر کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ اسٹریٹفور ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ حمص شہر کے نواحی دیہات تیاس کے نزدیک روسی افواج کے زیر استعمال شامی فضائی اڈے پر حملے کے نتیجے میں Mi-24 ماڈل کے 4 جنگی ہیلی کاپٹر تباہ ہوگئے جب کہ درجنوں فوجی ٹرک اور بسیں مکمل طور پر جل گئیں۔ یہ اڈہ ملک کے اہم ترین فوجی اڈوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

"اسٹریٹفور" کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ حملہ اور روسی جانب کا بڑا نقصان اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ روسی فوج اور شامی حکومت کی فورسز کی سپلائی لائن کے لیے خطرہ بدستور قائم ہے۔ مزید یہ کہ ہدف کی درستی سے معلوم ہوتا ہے کہ حملہ حادثاتی طور پر نہیں بلکہ مکمل غور و خوض اور منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا۔

یاد رہے کہ روس نے رواں سال مارچ میں اعلان کیا تھا کہ اس کے فوجی طیارے اور ہیلی کاپٹر شام میں حمیمیم کے اڈے سے کوچ کرچکے ہیں تاہم داعش اور النصرہ محاذ کے خلاف اس کے فضائی حملے جاری رہیں گے۔