.

اقوام متحدہ تعز میں حوثی باغیوں کے جرائم کا نوٹس لے: یمن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی حکومت نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ تعز شہر میں حوثی باغیوں اور علی صالح ملیشیا کے ہاتھوں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں، بچوں اور معصوم شہریوں کے قتل عام کا سختی سے نوٹس لے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق کویت میں امن مذاکرات میں سرگرم یمنی سرکاری وفد کے سربراہ اور وزیر خارجہ عبدالملک المخلافی نے جمعہ کے روز اقوام متحدہ کے سیکٹری جنرل بان کی مون کوایک مکتوب ارسال کیا ہے جس میں ان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ تعز میں حوثی باغیوں کے ہاتھوں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں پر فوری اور جاندار رد عمل ظاہر کرتےہوئے ان جرائم کا نوٹس لیں۔ مکتوب میں تعز میں حوثی باغیوں کے تازہ حملوں میں تین خواتین اور ایک بچی سمیت 11 افراد کی ہلاکت 41 افراد کے زخمی ہونے کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا گیا ہے۔

عبدالملک المخلافی نے اپنے مکتوب میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے مطالبہ کیا کہ یمن میں حوثی باغیوں کی جانب سے شہریو پرحملوں کا معاملہ فوری طورپر سلامتی کونسل میں اٹھایا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری حوثی اور علی صالح ملیشیا کو شہری آبادیوں، بازاروں، اسپتالوں، اسکولوں اور پناہ گزین کیمپوں پر گولہ باری سے باز رکھے۔ انہوں نے کہا کہ حوثیوں کی جانب سے ملک میں جاری وحشیانہ کارروائیاں کویت کی میزبانی میں جاری امن مذاکرات کو تباہ کرنے کی سازش ہیں۔

یمنی وزیر خارجہ نے تعز میں حوثی باغیوں کے ہاتھوں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں کے بارے میں یو این امن مندوب اسماعیل والد الشیخ احمد کو بھی آگاہ کیا اور ان پر واضح کیا کہ اس طرح کی کارروائیاں امن بات چیت کو متاثر کرنے کا موجب بن سکتی ہیں۔

خیال رہے کہ جمعہ کے روز تعز شہر میں حوثی باغیوں اور علی صالح کی حامی ملیشیا کی جانب سے شہری آبادیوں پر کی گئی گولہ باری سے کم سے کم 17 افراد جاں بحق اور 41 زخمی ہوگئے تھے۔ قبل ازیں ہلاکتوں کی تعداد 11 بیان کی گئی تھی۔

تعز میں حوثی باغیوں کی تازہ وحشیانہ کارروائیوں پر یمن کی آئینی حکومت نے سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان سے بھی رابطہ کیا ہے اور صورت حال کے بارے میں انہیں بھی مطلع کرتے ہوئے حوثیوں کو جرائم سے روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق حوثی اور علی صالح ملیشیا کی جانب سے جمعہ کے روز تعز کے ثعبات، الجحملیہ اور العسکر کے مقامات پر توپ خانے اور ہاون راکٹوں سے حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں تین مزاحمتی کارکنوں سمیت ڈیڑھ درجن کے قریب شہری جاں بحق ہوئے۔

انسانی حقوق کی مقامی تنظیموں نے بھی حوثیوں کی وحشیانہ کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے تعز شہر کا محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔