القدس ملیشیا کے ارکان بغداد، بیروت اور دمشق میں ایرانی سفیر
ایران کے ایک سابق سفارت کار اور پاسداران انقلاب کے سابق افسر جواد منصور نے انکشاف کیا ہے کہ تہران کے جوہری پروگرام کے اعلیٰ مذاکرات کار عباس عراقجی سمیت کئی دوسرے ملکوں میں تعینات ایرانی سفیر ماضی میں القدس ملیشیا کے رکن رہ چکے ہیں۔
خیال رہے کہ جنرل قاسم سلیمانی کی قیادت میں سرگرم فیلق القدس ایرانی پاسداران انقلاب کی بیرون ملک عسکری تنظیم ہے جو مبینہ طور پر ایران کے حامیوں کی مدد اور مخالفین کو کچلنے میں دوسرے ملکوں کی مدد کرتی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سابق سفیر جواد منصور نے بتایا کہ عباس عراقجی کے علاوہ لبنان، شام اور عراق میں متعین ایرانی سفراء بھی القدس ملیشیا کے رکن رہ چکے ہیں۔
ایرانی فوج کے مقرب جریدہ "رموز عبور" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جواد منصور نے کہا کہ اکیلے عباس عراقجی القدس فورس کے سابق رکن نہیں بلکہ کئی دوسرے سفیر بھی اس تنظیم میں شامل رہ چکے ہیں۔ تاہم ایران کے بعض دوسرے ذرائع ابلاغ نے عباس عراقجی کے فیلق القدس کا رکن رہنے کی خبروں کی تردید کی ہے۔
تاہم جواد منصور اس پر مصرہیں کہ عباس عراقجی پاسداران انقلاب کی سرحد پار سرگرم تنظیم القدس فورس کے رکن رہ چکے ہیں۔
جواد منصور نے بتایا کہ سنہ 1986ء میں آیت اللہ علی خمینی نے "فریڈم موومنٹس یونٹ" کو پاسداران انقلاب سے نکال کر وزارت خارجہ کے ماتحت کردیا تھا۔ اس کے باوجود یہ عام تاثر یہی ہے کہ بیرون ملک تنظیموں کی اصل نگرانی پاسداران انقلاب ہی کررہا ہے تاہم ان کا انتظامی کنٹرول وزارت خارجہ کے ہاتھ میں ہے۔
ایک دوسرے سوال کے جواب میں جواد منصور نے کہا کہ جو شخصیات ماضی میں القدس فورس میں شامل رہ چکی ہیں اور انہیں مختلف ملکوں میں سفیر تعینات کیا گیا ہے حقیقی معنوں میں وہ اب بھی اس تنظیم کی رکن ہیں۔ ان میں بغداد، بیروت اور دمشق میں متعین ایرانی سفرا خاص طور پر شامل ہیں۔
-
القدس فورس کے چمکتے ستارے ''حجازی اینڈ سن'' سے ملیے
کیا آپ ایران کی پرپیچ سراغرساں قیادت اور اس کے کام کے بارے میں جانتے ہیں؟اگر نہیں ...
ایڈیٹر کی پسند -
سعودی عرب کو معافی نہیں دے سکتے: خمینی
"القدس سے دست برداری اور صدام کو معاف کر سکتے ہیں"
ایڈیٹر کی پسند -
موصل اور کرکوک کو زیر نگین کرنے کا ایرانی منصوبہ
ایرانی کرد رہنما نے القدس فورس کی کارروائی بے نقاب کر دی
مشرق وسطی