.

حمزہ بن لادن کا امریکا سے باپ کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ کے مقتول سربراہ اسامہ بن لادن کے بیٹے حمزہ نے امریکا سے اپنے باپ کی ہلاکت کا انتقام لینے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ دنیا بھر میں ریاست ہائے متحدہ امریکا کے خلاف جنگ جاری رکھی جائے گی۔

القاعدہ کی جانب سے اتوار کو حمزہ بن لادن کی اکیس منٹ کی ایک آڈیو تقریر جاری کی گئی ہے۔سائٹ انٹیلی جنس گروپ کے مطابق اس آڈیو کا عنوان '' ہم سب اسامہ ہیں'' ہے۔اس میں انھوں نے امریکا پر حملے جاری رکھنے کی دھمکی دی ہے۔

حمزہ نے کہا :''ہم آپ کو آپ کے ملک میں اور بیرون ملک فلسطینی عوام ،افغانستان ،شام ،عراق ،یمن ،صومالیہ اور پوری مسلم دنیا کے خلاف جبرو استبداد کی کارروائیوں کے ردعمل میں نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے''۔

انھوں نے کہا کہ اسلامی قوم کی جانب سے یہ شیخ اسامہ ،اللہ ان کی مغفرت کرے،کا انتقام نہیں ہے بلکہ یہ ان تمام لوگوں کی جانب سے انتقام ہے جنھوں نے اسلام کا دفاع کیا تھا۔

اسامہ بن لادن مئی 2011ء میں پاکستان کے شمالی شہر ایبٹ آباد میں امریکی کمانڈوز کی ایک شب خون کارروائی میں مارے گئے تھے۔ان کے مکان (کمپاؤنڈ) سے امریکی کمانڈوز کمپیوٹر ریکارڈز اور دستاویزات کا ایک انبار اپنے ساتھ لے گئے تھے اور ان کو گذشتہ سال ہی امریکا نے مکمل چھان بین کے بعد شائع کیا ہے۔

ان دستاویزات کے مطابق حمزہ بن لادن اس شب خون کارروائی کے وقت ایران میں نظربند تھے اور اسامہ بن لادن کے بعض مشیروں نے انھیں ان کے بیٹے سے ملوانے کی کوشش کی تھی۔

امریکی تھنک ٹینک بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے مطابق حمزہ کی اس وقت عمر پچیس چھبیس سال ہے۔وہ امریکا پر نائن الیون حملوں کے وقت افغانستان میں اپنے باپ کے ساتھ ہی رہ رہے تھے اور افغانستان پر امریکا کی اکتوبر 2001ء میں چڑھائی کے بعد وہ چھپتے چھپاتے اپنے والد اور القاعدہ کے دوسرے لیڈروں کے ساتھ پاکستان کے شمال مغربی پہاڑی علاقوں میں اٹھ آئے تھے۔

حمزہ بن لادن گذشتہ سال القاعدہ کی جانب سے آن لائن جاری کردہ ایک آڈیو پیغام میں دنیا سے متعارف ہوئے تھے۔اس آڈیو القاعدہ کے سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری نے ان کا تعارف کرایا تھا اور انھیں تنظیم کی ایک نوجوان آواز قرار دیا تھا۔

بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے محقق بروس ریڈل کا کہنا ہے کہ حمزہ القاعدہ کا نیا چہرہ ہیں۔وہ تنظیم کے بانی سے براہ راست تعلق رکھتے ہیں۔وہ ایک مؤثر اور خطرناک دشمن ہیں۔تنظیم کی ضعیف العمر قیادت انھیں نوجوانوں کو راغب کرنے کے لیے سامنے لارہی ہے کیونکہ اب نوجوان جنگجو القاعدہ کے بجائے داعش کی صفوں میں شامل ہورہے ہیں۔