ترکی صدارتی گارڈ تحلیل کرنے کا فیصلہ
ترکی کے وزیراعظم بن علی یلدرم نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز ایوان صدر کی حفاظت کے ذمہ دار صدارتی گارڈز کو تحلیل کیا جا رہا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ترک وزیراعظم نے ایک ٹی وی پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہاکہ ’اب کے بعد کسی صدارتی گاڈز نامی فورس کی ضرورت نہیں ہو گی، ہمیں ایسے ادارے اور لوگوں کی کوئی ضرورت نہیں جو اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں ادا نہ کر سکیں‘‘۔ انہوں نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں جاری کیا ہے جب صدر رجب طیب ایردوآن کی حفاظت پر مامور ادارے کے 283 اہلکاروں کو حراست میں لیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ ترکی میں صدارتی محل کی حفاظت پر مامور صدارتی گارڈز میں 2500 اہلکار شامل ہیں۔ ان کے خلاف تازہ کارروائی 15 جولائی کو حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام سازش کے بعد جاری آپریشن کلین اپ کا حصہ ہے۔
وزیراعظم نے اپنی گفتگو میں اشارتاً کہا کہ سرکاری ٹی وی ’ٹی آر ٹی‘ کے ہیڈ کواٹر میں داخل ہونے والے اہلکاروں میں صدارتی عملے کے اہلکار بھی ملوث تھے۔ انہوں نے نیوز کاسٹر کو حکومت کا تختہ الٹنے اور ملک میں کرفیو نافذ کرنے کا اعلان پڑھ کر سنانے پر مجبور کیا تھا۔
وزیراعظم نے بتایا کہ اداروں میں تطہیر کے لیے جاری آپریشن کے دوران اب تک 1329 پولیس اہلکاروں، 8831 فوجیوں،2100 ججوں اور 689 عام شہریوں کو جیلوں میں ڈالا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 123 جرنیلوں اور 3718 فوجیوں سمیت 5837 افراد کو شبے کی بنیاد پر حراست میں رکھا گیا ہے۔
-
ترکی : فتح اللہ گولن کا بھتیجا فوجی بغاوت کے الزام میں گرفتار
ترکی میں حکام نے امریکا میں مقیم حکومت مخالف عالم فتح اللہ گولن کے بھتیجے کو ...
بين الاقوامى -
ترکی : بعد از فوجی بغاوت کریک ڈاؤن،50 ہزار سرکاری ملازمین معطل یا گرفتار
وزیراعظم بن علی یلدریم کا امریکا پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دُہرے معیارات اپنانے ...
بين الاقوامى -
ترکی : ناکام فوجی بغاوت سے تعلق کے الزام میں 8777 افسر اور اہلکار معطل
تین روز میں ملک بھر سے 7500 سے زیادہ اعلیٰ فوجی اور عدالتی افسر گرفتار
بين الاقوامى